چین نہیں بلکہ امریکہ کے دباو پر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کاروائی ہورہی ہے،سابق سفیر کا تہلکہ خیز انکشاف۔

0 0

اسلام آباد(ویب ڈیسک/ٹی این این) پاکستان کے سابق سینئر سفارت کار عبدالباسط نے انکشاف کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو امریکہ کے دبائو پر صوبہ بنایا جا رہا ہے، امریکہ کشمیر سے متعلق سٹیٹس کو چاہتا ہے اور امریکہ کے دبائو کی وجہ سے ہی گلگت بلتستان کو پاکستان کی صوبہ بنانے کی کاروائی کی جارہی ہے۔ عبدالباسط نے اپنے وی لاگ میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لئے چین کو کوئی دبائو نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بنانے کے معاملے میں چین کی مرضی بتانا ایک بچگانہ سی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ عبوری صوبہ بنانے سے بھی گلگت بلتستان کشمیر تنازعہ سے باہر نہیں نکل سکے گا۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا کشمیر پر پاکستان کی قانونی،اخلاقی پوزیشن کو کمزور کرنے کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آہستہ آہستہ اس حل کی طرف بڑھ رہا ہے جو امریکہ کی خواہش رہی ہے اور مسئلہ کشمیر کا سٹیٹس کو حل کی طرف ہم جانا چاہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان سی پیک کی طرف نہ جائے،بھارت کے ساتھ تعلقات ذرا ٹھیک ہوں تا کہ چین کے خلاف ریجن کو اکٹھا کیاجائے۔عبدالباسط نے اس دلیل کو مسترد کیا کہ ستر سال سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوا ،لہذا گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کر لیا جائے اور وہاں کے لوگ بھی یہی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہونا تھا تو ستر سال پہلے ہی پاکستان کا صوبہ بنا لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس دلیل میں کوئی وزن نہیں ہے۔عبدالباسط نے کہا کہ گلگت بلتستان کو امپاور کیا جائے، وہاں کے لوگوں کی شکایات دور کی جائیں۔
عبدالباسط نے کہاکہ جس طرح امریکہ کے دبائو پر گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنا یا جا رہا ہے، اس سے مسئلہ کشمیر کےسٹیٹس کوکو بحال رکھتے ہوئے مشرف فارومولے کی طرز پہ ہی راہ اختیار کی جار ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں شامل ہے۔ صوبہ بنانے پر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگ کس رائے ،ردعمل کا اظہار کریں گے،یہ بات بھی اہم ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website