سکردو(ٹی ٹی این) سکردو پاکستان تحریک انصاف بلتستان کے مختلف عہدیداروں اور کارکنوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں علی امین گنڈا پور جیسے لوگوں کے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی کے لئے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہے الیکٹیبلز کے چکر میں پارٹی کا بیڑا غرق کر دیا سابق کنوینر ڈی ائی جی (ر) حشمت اللہ تقی آخوند زادہ، وزیر ولایت، وزیر سلیم، ایڈووکیٹ محمد ذاکر، حاجی محمد اقبال، مشتاق اپنے اپنے حلقوں میں مضبوط کئی امیدوار ہیں کن لوگوں کے کہنے پر انہیں پارٹی ٹکٹ سے محروم کیا نہیں معلوم جو لوگ مفلر تک پہننا پسند نہیں کیا جنہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار نہ کرنے کی اعلی اعلان قسم کھائی وہ لوگ پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی تیاری میں ہے جبکہ اس کے برعکس جنہوں نے برے وقتوں میں پارٹی کو سہارا دیا آج وہ لوگ کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں نووارد لوگوں کو ٹکٹ دینے والے یقیناً پارٹی کے دشمن ہیں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کارکنان اپنے اپنے ضلعی عہدیداروں سے سوال کرتے ہیں لیکن پارٹی عہدیدار خود پریشان ہیں پاکستان تحریک انصاف کے متعدد امیدوار بپھر گئے بہت سارے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ ٹکٹوں کی تقسیم میں ضلعی تنظیموں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اگر اعتماد میں ہی نہیں لینا تھا تو درجن کے قریب پارٹی کے شاخ کھولنے کی کیا ضرورت تھی؟ سید جعفر شاہ اور گورنر راجہ جلال کی اقتدار کی جنگ میں گلگت بلتستان کے اندر پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا
جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر بغاوت ہو رہی ہے کارکن عہدیدار نالاں ہے الیکشن کس طرح سے لڑیں گے پانچ آدمی اسلام آباد میں بیٹھ کر خفیہ طاقتوں کے کہنے پر حقائق کے منافی فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا ورکرز عمران خان کے ویژن کے حامی ہیں سیف اللہ نیازی اور علی امین گنڈا پور کے نہیں ان حضرات نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر پارٹی کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ایک آدھ کے کوئی بھی سیٹ نکالنا جوئے شیر کے مترادف ہوگا
پی ٹی ائی کے کارکنوں نے اخر کنارہ کشی کیوں اختیار کررہا ہیں اپس کی دشمنی نے کس کو فائدہ پہنچا ؟کارکنوں نے تحریر نیوز کے سامنے بڑا انکشاف کردیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا