سکردو(ٹی این این) سکردو پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دی بلتستان ریجن کو ایک بار پھر نظر انداز کر دیا گیا صوبائی کابینہ میں بھی اہم عہدے گلگت کو دی گئی اب پارلیمانی بورڈ میں بھی جگہ نہ مل سکا پاکستان تحریک انصاف بلتستان ڈویژن کے صدر سابق ڈپٹی سپیکر وزیر ولایت علی کو ایکس آفیشو ممبر بنایا گیا ہے جس کا کردار محض نمائشی ہے امیدواروں کے ٹکٹوں کے معاملہ ایکس آفیشو ممبر کا کوئی رول نہیں ہے نہ ہی ان کے دستخط کسی کام کے ہیں ان کا کردار ڈاکیے کا ہے ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کابینہ کے خط پارلیمانی بورڈ تک پہنچانا ہے اس سلسلے میں بلتستان ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کابینہ خاصا نالاں نظر آتے ہیں پارٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پارلیمانی بورڈ چند لوگوں نے اسلام آباد میں بیٹھ کر بنایا ہے جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے کرنل امان نامی غیر سیاسی شخص اس وقت پارٹی کے سیاہ سفید کے مالک بنا ہوا ہے ایسے آمرانہ سوچ کے حامل لوگوں کا پارٹی میں رہنا سخت نقصان دہ ہیں انہوں نے پہلے بھی یہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پر عہدے تقسیم کر کے اپنے آپ کو غیر سیاسی ہونے کی دلیل پیش کی ہے اب ایک اور متنازعہ پارلیمانی بورڈ تشکیل دے کر رہی سہی کسر نکال دی ہے ہم وزیر اعظم پاکستان چیئرمین عمران خان اور چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی سے پرور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے افراد کو پارٹی سے نکال باہر کریں وگرنہ ایسے لوگ پارٹی کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیں گے الیکشن کی آمد آمد ہے غیر سنجیدہ فیصلے پارٹی کے لئے نقصان کا باعث بن سکتی ہے پارلیمانی بورڈ میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جائے جو سب کے لئے قابل قبول ہو ساتھ ہی بلتستان ڈویژن سے نمائشی ممبر یعنی ایکس آفیشو کے بجائے باقاعدہ پارلیمانی بورڈ میں نمائندگی دی جائے کیونکہ بلتستان 9 حلقوں پر مشتمل ہے ہمیشہ بلتستان کے ممبران نے ہی حکومت بنائی ہے نظر انداز کرنے سے خدشہ ہے کہ بلتستان اس دفعہ پی ٹی آئی کے لے مطلوبہ سیٹ نہیں دے سکیں گے جو کہ حکومت بنانے کے لئے ضروری ہے ۔
پی ٹی ائی نے بلتستان ڈویژن کو نظر انداز کرنے کے پیچھے کیا مقاصد ہوسکتے ہیں؟ تحریر نیوز کی تہلکہ خیز رپورٹ
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا