اسلام آباد(ویب ڈیسک ٹی این این) پاکستان کے انمول ورثہ گلگت بلتستان کی قدیم چٹانوں کی حفاظت کے تحفظ کیلیے مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار یو نیسکو کی ڈائریکٹر، نمائندہ پیٹریسیا میک فلپس اور نیشنل آفیسر برائے ثقافت جواد عزیز نے یونیسکو کے ثقافتی پروگرام کے بارے میں نوشین جاوید امجد، سکرٹری قومی ورثہ وثقافت اور جوائنٹ سیکریٹری رحیمون مرید کے ساتھ قومی ورثہ وثقافت ڈویژن کے دفتر میں منعقد ہونے والی مٹینگ کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسکو پروگرام کے تحت حکومت پنجاب کی مدد سے مذہبی دلچسپی کے حامل مقامات کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائیگی۔ پیٹریسیا میک فلپس نے بتایا کہ ثقافت اور تخلیقی صنعتوں کو فروغ دینے میں کول جانیوالے نوجوانوں اور دیگر نوجوانوں کو ورثے کے تحفظ اور بلوچستان میں صدیوں قدیم کاریز سسٹم کے پانی کے انتظامی نظام کو محفوظ بنانے میں شامل کیا جائے۔ نوشین جاوید نے پاکستان کے ورثہ اور قدرتی مقامات پر زیادہ سیاحت کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی، جہاں یونیسکو کے تکنیکی تعاون کی ضرورت ہے۔ سکریٹری نے تھرپارکر ضلع کے وسیع ورثہ دستکاری کا تذکرہ کیا جو مقامی کمیونٹیز کیلیے سیاحت اور معاش کے فروغ کیلیے بڑے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔
گلگت بلتستان کی قدیم چٹانوں کی حفاظت کیلئے یونیسکو نے اہم قدم اُٹھا لیا.
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا