اسلام آباد(ٹی این این) گزشتہ ایک ماہ سے سماجی رابطے کی ویب ساٹٹ ٹیوٹر پر گلگت بلتستان میں معیاری انٹرنیٹ کی عدم دستیابی پر نیم سرکاری ادارہ ایس سی او کے خلاف عوامی احتجاج عروج پر ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیوٹر پر ہش ٹیگ #Internet4GilgitBaltistan ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے اور دوسری بار گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صارفین کی جانب سے ٹاپ ٹرینڈ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملک بھر میں کرونا کی وجہ سے آن لائن تعلیم شروع کردیا ہے لیکن گلگت بلتستان میں معیاری انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے سب طالب علموں میں شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔ اُنکا حکومت سے مسلسل مطالبہ ہے کہ خطے میں ملک بھر کی طرح دیگر نجی کمپینوں کو فور جی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی اجازت دی جائے لیکن کہا جارہا ہے کہ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسپیشل کمونیکیشن کا ادارہ ہے جن کے پاس گلگت بلتستان مواصلاتی نظام چلانے کا مکمل اختیار ہے۔ سوشل پر صارفین کے سوالات کے جواب میں نجی ٹیلی کام کمپنی ٹیلی نار نے انکشاف کیا ہے کہ ٹیلی نار گزشتہ دوسالوں سے گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ کی عدم فراہمی کا ذمہ دار پی ٹی اے کو قرار دیا دیا ہے۔ اُنہوں نے ٹیوٹ میں انکشات کیا ہے کہ ہم گلگت میں اپنے صارفین کی بے حد قدر کرتے ہیں اور انھیں بہترین ممکنہ خدمات لانے کے خواہاں ہیں۔تاہم ، ہمیں اس کو ممکن بنانے کے لئے اضافی اسپیکٹرم کی ضرورت ہے ، اور امید ہے کہ پی ٹی اے اور حکومت گذشتہ 2 سالوں سے ہماری مستقل درخواستوں کے مطابق اعلی ترجیحی بنیادوں پر اسے دستیاب کریں گے۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں دفعہ 141 کے تحت اور گلگت بلتستان میں زیر دفعہ ،85 علاقے میں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز فراہم کرنے کے لیے 1976 میں ایس سی او کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو کہ تاحال جاری ہیں اور پاکستان ٹیلی کام ایکٹ 1996 کی شق 40 کے تحت ایس سی او کے پاس شمالی علاقہ جات(گلگت بلتستان) اور آزاد جموں و کشمیر خصوصی مواصلات چلانے کے مکمل اختیار محفوظ ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت عوامی حلقوں کے مطابق نجی کمپنیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ایکٹ ہے جسے فوری طور پر ختم کرکے پاکستان کے چاروں صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی دیگر نجی ٹیلی کام کمپینوں کو اجازت ملنی چاہئے تاکہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا بھی جدید دنیا سے ساتھ رابطہ استوار ہوجائے۔
We enormously value our customers in Gilgit & are eager to bring them best possible services.
However, we require additional spectrum to make it possible, & hope that PTA & Govt will make it available on high priority basis in line with our continuous requests for past 2 years.— Telenor Pakistan (@telenorpakistan) July 26, 2020
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا