اسلام آباد(ٹی این این)ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں صحافی کے سوال پر گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور خیبر پختونخواہ کے علاقے کوہستان کے درمیاں ہندارپ نامی نالے پر حدود تنازعے کے حل کے لئے منعقد ہونے والے جرگے کے بارئے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے جہاں اس پر تبصرہ کرنے سے انکارکردیا۔ سنئیر صحافی فداحسین کے ایک سوال پر انہوں مزید نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاری ہے۔ یاد رہے گلگت بلتستان کے مختلف سیاسی سماجی رہنماوں اور قانونی ماہرین نے کوہستان اور گلگت بلتستان کے درمیان سرحدی تنازعے پرجرگے کو گلگت بلتستان کے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا منہ بولتا ثبوت قرار دیاہے۔اُنکا کہنا تھاپاکستان اور ہندوستان کے درمیان کراچی ملٹری اگریمنٹ کے تحت اقوام متحدہ کی موجودگی میں ریاست جموں کشمیر کے سرحدیں متعین ہے جسکی کوہستان سے خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس خطے کے سرحدوں اور اراضی علاقوں پر قبضہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ لہذا قانونی طور پر اُن کے خلاف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج ہونا چاہئے۔دوسری طرف آج گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بار پھر گلگت بلتستان کو آئینی اسمبلی بنانے کیلئے متفقہ قرارداد منظور کی ہے ایسے موقع پر دفتر خارجہ کا گلگت بلتستان کے حوالے سے بیان انتہائی اہم ہے اورگلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران کی ناسمجھی اور سیاسی طور پر نابالغی کو ظاہر کرتی ہے۔
گلگت بلتستان کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا