اسلام آباد( تحریر نیوز) جمہوری معاشروں میں وہ افراد جنہیں عوام ووٹ دیکر ایوان اقتدار میں پونچاتے ہیں وہی لوگ دراصل کسی بھی ملک یا ریاست کے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں۔ سرکاری افیسرچاہئے کتنے بڑے عہدے پر فائز ہو لیکن وہ ملازم کہلاتے ہیں اور سیاسی قیادت کے تابع ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں کے پاس عوامی اور ریاستی معاملات میں اختیارات کا فقدان اپنی جگہ لیکن بحیثیت عوامی نمائندے اُن کی ایک عزت ہوتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی پرنٹ میڈیا میں ہمیشہ مقامی عوامی نمائندوں کو کسی بھی نجی یا سرکاری تقریب میں بیوروکریسی کے پیچھے دکھا رہا ہوتا ہے یعنی ایک طرح سے مقامی پرنٹ میڈیا اس وقت چالپوسی کے خطرناک مراحل سے گزر رہا ہے جوکہ صحافتی اقدار اور نام پر سوالیہ نشان ہے۔
گلگت بلتستان میں پرنٹ میڈیا منسلک افراد کو چاہئے کہ صحافتی اقدار کی لاج رکھتے ہوئے سیاسی قیادت اور سرکاری ملازمین میں فرق کو واضح کرتے ہوئے کسی تقریب کی کوریج اور اشاعت کو یقینی بنائیں کیونکہ یہ لوگ تمام تر کمزوریوں کے باوجود عوامی نمائندے اور بیوروکریسی ریاست کے ملازم ہیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا