کھرمنگ(ٹی این این) وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کا گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کے حوالے سے فیصلے پسند ناپسند اور تعصب کی بنیاد پر کرنے کےحوالے سے عوامی حلقوں میں شکوک شبہات اور شکایات کا سوشل میڈیا پرچرچہ ہے لیکن ضلع کھرمنگ کے حوالے اُنکا خصوصی طور پر تعصب کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں۔ ضلع بننے سے لیکر آج تک ضلع کھرمنگ کو جن مسائل سے دوچار ہیں اس حوالے سے اُن کا نظر انداز کرنا اور دیگر اضلاع کے مقابلے میں ضلع کھرمنگ کونظر انداز کرنےپر سوشل میڈیا پر ضلع کھرمنگ سے تعلق رکھنے والے افراد کے شکوہ کرتے بھی نظر آتا ہے۔ ایسا ہی واقعہ گزشتہ ہفتے پیش آیا جب ضلع کھرمنگ سے تعلق رکھنے والے سوشل ایکٹیوسٹ اور کالم نگار صحافی شیر علی انجم نے شاہراہ کھرمنگ پر ایک پڑی جو گرنے کے قریب ہے اور کسی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے،اس حوالے سےایک خبراُن کےنوٹس میں لانے کی کوشش کی تو وہ ناراض ہوگئے۔ اُن کے مطابق چونکہ میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا کہ وزیر اعلیٰ فیس بُک کے پوسٹ اور خبروں پر ایکشن لیتے ہوئے ہر خبر سے متعلق اپنے فیس بُک پیج پر ایکشن لینے سے متعلق پوسٹ کرتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ میں نے شاہراہ کھرمنگ مہدی آباد اور غاسنگ کے حدود پر واقع نقپو پڑی پر جو پہاڑ سرک رہا ہے اُس حوالے سے ایک خبر اُنکو ٹیگ کیا تاکہ ایکشن لے سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کئی دنوں تک جب کوئی نوٹس نہیں لیا اُنہوں نے چیک کیا تو معلوم ہوا کہ وزیر اعلیٰ نے اُس خبر سے ٹیگ کو ہٹا کر اُنہیں فیس بُک فرینڈ لسٹ سے ہی خارج کردیا ہے۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ بلکل اسی طرح اُنہوں نے ایفادپراجیکٹ کے حوالے سے ضلع کھرمنگ کو دیگر اضلاع سے کہیں ذیادہ ضرورت ہونے کے باوجود مکمل طور پر نظرانداز کیا ،سیاحت اور صحت کو درپیش مسائل کی طرف مسلسل نشاندہی کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے ضلع کھرمنگ کےمسائل کو وہ کس قدر نظرانداز کرتے ہیں۔
ضلع کھرمنگ کے مسائل کی نشاندہی وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کیلئے ناقابل برداشت۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا