شاہراہ قراقرم پر دہشتگردی کا شدید خطرہ،شرپسندوں نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کردیا۔

0 0

گلگت(ٹی این این)گزشتہ سال جولائی کے مہینےگلگت بلتستان کے ضلع غذر تحصیل پھنڈر کے نالہ ہندرپ پر کوہستان سے تعلق رکھنے والے ملک آفرین ولد ملک نواب گاوں گبرول نامی شخص کے غنڈوں نے چراگاہ اور نالے پر قبضے کیلئے 8 افراد کو گن پوائنٹ پر اغوا کرکے کوہستان لے گیا تھا جس میں سے 4 افراد کسی بھی طرح چان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے باقی 4 افراد کو پولیس نے ایک مذاکرات کے ذریعے بازیاب کرایا تھا۔
اغواکاروں کے کمانڈر ملک آفرین کے خلاف عوام کی مدعیت پر پھنڈر تھانے میں زیر دفعات 364۔465۔365اے۔506 دو۔341 342۔343۔347۔109 پی پی سی کے تحت مقدمہ درج تھے جس کی پیروی عدالت میں جاری تھا اور گزشتہ روز مقامی عدالت نے فریقین کا جرح سُننے کے بعد ملزم کا ضمانت منسوخ کردیا اور پولیس نے اُنہیں باقاعدہ طور پر گرفتار کرلیا۔اُنکی گرفتاری کے بعد خیبرپختونخواہ کے ضلع کوہستان میں اغواء کار کے حمایتوں نے احتجاج شروع کی۔یاد رہےملزم نے گلگت چیف کورٹ میں ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے اور شرپسند عناصر کا مطالبہ ہے کہ ایف آئی آر کو خارج کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر وائر ل ویڈیو کے مطابق ایک شخص جنکا نام انجینئر بخت بلند خان بتایا جاتا ہے،نے کوہستان کاعلاقہ کمیلہ بازارمیں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ ممکنہ طور پر ملزم کے ایک ساتھی کی ملزم کو رہا نہ کرنے کی صورت میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے اسماعیلی مسلک کے لوگوں کو شاہراہ ریشم کوہستان سے گزرنے نہیں دیا جائے گا۔اسی طرح کوہستان سے سوشل میڈیا پر کچھ مزیدلوگوںکا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں اُنہوں گلگت بلتستان میں ماضی میں ہونے والے دہشتگردی کا اعتراف کرتے ہوئے دیگر مسالک کے علمائے کرام کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کوہستان سے گزرنے نہ دینے کی دھمکی دی ہے۔
ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائر ل ہوکر کئی دن گزر گئے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل خاموشی سے ایسا لگتا ہے کہ شاہراہ قراقرم کو ایک بار پھر شرپسند عناصر کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں میں اس حوالے سے شدید تشویش پایا جارہا ہے سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات کی جانب سے ایک مجرم کی گرفتار ی پر دیگر شرپسند افراد کی جانب سے شہریوں کو دھمکی دینے والے کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔عوامی حلقوں کی جانب سےویڈیو وائرل ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی کے قوانین پرسنگیں سوالات اٹھانے گئے ہیں۔ لوگ حکومت سے یہ سوال کر رہے کہ اب انسداد دہشت گردی اور شیڈول فور جیسے قوانین کہاں ہیں۔ سوشل صارفین لکھتے ہیں کہ صاف ظاہرہو رہا ہے کہ اس قسم کے قوانین فقط گلگت بلتستان کے لوگوں کی حق اور سچ کی آواز دبانے کیلئے بنایا گیا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website