گلگت ( تحریر نیوز) حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے عوام دشمنی پالیسوں کا تسلسل جاری ہیں تفصیلات کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معدنیات، تجارت و صنعت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کونسل نے مائننگ رولز 2016 ء کی منظوری دے کر گلگت بلتستان کے شہریوں کو یہاں کے معدنیات سے فائدہ اٹھانے سے محروم کر دیا ہے۔ متنازعہ حیثیت کی وجہ سے گلگت بلتستان کے معدنیات پر پہلا حق گلگت بلتستان کے شہریوں کا ہے لیکن کونسل اور منسٹری آف کشمیر آفیئرز و گلگت بلتستان نے مائننگ رولز ایسے بنائے ہیں کہ گلگت بلتستان کے شہری اپنی ہی ملکیت سے محرومہ وکر رہ گئے ہیں۔اس پر کمیٹی نے سخت غم و غصے اور تشویش کا اظہارکرکیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ مائننگ رولز2016 کے تحت معدنیات کے حوالے سے ہر قسم کا لائسنس دینے کا اختیار محکمہ معدنیات گلگت بلتستان سے اٹھا کر کشمیر آفیئرز کودیا گیا جس کی وجہ سے محکمہ معدنیات گلگت بلتستان کا کام صرف جی بی کونسل کو ریونیو دینا ہے۔
کشمیر افئیرز نے بڑے ہی چلاکی سے اس قانون میں ایک شق ڈالا ہے جس کے مطابق مائننگ لائسنس حاصل کرنے کیلئے گزشتہ چھہ ماہ کے دوران اپلائی کرنے والے کے بنک اکاونٹ میں روزانہ چالیس لاکھ رروپوں کی ترسیل لاز می قرار دیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان ایک پسماندہ علاقہ ہے یہاں وسائل ہیں لیکن بروئے کار لانے کیلئے حکومت نے پچھلے سترسالوں میں کچھ بھی نہیں کیا ایسے میں اتنے بڑے سرمایہ دار گلگت بلتستان میں کہاں ہیں؟یہ رولز گلگت بلتستان کے شہریوں کو معدنیات کے کاروبار سے دور رکھ کر غیر مقامی بڑے سرمایہ داروں کو نوازنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان رولز کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مقامی لوگوں کے اس معاشی قتل کو روکا جاسکے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا