غذر (پ،ر ) غذر کے عوام بدبو دار، مضر صحت، آٹا کھانے پر مجبور ہیں۔ضلع غذر کے ہیڈ کوارٹر گاہکوچ کے گودام سے عوام کو2011اور2014کے دوران پنجاب سے خریدا گیا گندم تقسیم کیا گیا، جو کھانے کے قابل ہی نہیں ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دکانوں میں فائن اور دانہ دار آٹے کھلے عام فروخت کیا جارہا ہے حالانکہ پنجاب اور گلگت بلتستان کے کسی بھی علاقے سے غذرمیں پرائیوٹ سیکٹر کے لئے ایک دانہ گندم بھی نہیں آتا ہے۔ غذر میں موجود ان دکانوں میں یہ آٹا کہاں سے آتا ہے اس حوالے سے انتظامیہ اور محکمہ خوراک دونوں خاموش ہیں۔
دوسری طرف عوام آٹے کے حصول کے لئے در در کی ٹھو کریں کھانے پر مجبور ہیں، اور فلور ملز اور دکانوں سے 1800روپے کے حساب سے آٹا خرید رہے ہیں۔اعلی حکام کو روزانہ شکایات ملنے کے باوجود بھی غفلت برتنے والے افراد کے خلاف کوئی کارروئی نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔جو آٹا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے عوام میں تقسیم کیا گیا تھا وہ کھانے کے قابل نہیں ہے۔ کئی علاقوں کے عوام کو تاحا ل ستمبر کا کوٹہ نہیں ملا ہے، جبکہ دوسری طرف ذخیرہ اندوزوں کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ 600سو روپے میں ملنے والا آٹا بلیک مارکیٹ میں 1800 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ اسی طرح، بلیک میں آٹا فروخت کرنے والے افراد نے بھی لوٹ مار کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ بالائی علاقوں میں ایک تھیلا آٹا کی قیمت 2000 تک پہنچ جاتی ہے، اور عوام مجبوراً مہنگے داموں آٹا خرید رہے ہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا