گلگت ( تحریر نیوز) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رکن قانون ساز اسمبلی کپٹن ریٹائرڈ محمدشفیع نے جعفر اللہ خان کے اُس بیان پر جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ نہیں بلکہ پاکستان کا باقاعدہ حصہ ہے کہا تھا، پر رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ جعفراللہ خان سیاست میں بچہ ہے اور بچہ کچھ بھی کہہ سکتا ہے ۔یہ بات ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اس وجہ سے پاکستان کے سینٹ اور قومی اسمبلی میں اس خطے کے عوام کی بار بار مطالبے کے باوجود نمائندگی نہیں دیا جارہی ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلے موجود ہیں اور پاکستان کے اعلیٰ قیادت بھی ہمیشہ سے یہی کہتے رہے ہیں کہ گلگت بلتستان قانونی اور آئینی طور پر باقاعدہ پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازعہ خطہ ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا ہماری تمام تر محبتوں کے باوجود یہ بات پاکستان ہندوستان اور اقوام متحدہ کے درمیان متفق اور تسلیم شدہ فیصلہ ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے اور اس خطے کی قسمت کا فیصلہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسلہ کشمیر کی حل کیلئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری نہیں ہوتی۔ لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر گلگت بلتستان کو پانچواں آئینی صوبہ بنانے میں قوانین اور مسلہ کشمیر رکاوٹ ہے تو گلگت بلتستان کوآذاد کشمیر کی طرز پر اُن سے بااختیارانتظامی سیٹ اپ دیں جس میں اختیارات گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں کے پاس ہو۔ ایسا کرنے کی صورت میں نہ ہی کشمیر کاز کا نقصان پونچے گا اور نہ ہی خارجہ پالیسی پر منفی اثر پڑھ سکتا ہے بلکہ سی پیک کے حوالے پاکستان دشمن قوتوں کو اس ایشو کے نام پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں بھی مکمل طور پر آخری انجام کو پونچ سکتاہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا