اسلام آباد(فدا حسین) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کرگل لداخ اور ترتوک خپلو روڈ کھولنے کے لئے بھارت کو کسی نئی تجویز دینے سے انکار کرتے ہوئے نئی تجویز کو بھارت کی مذاکرات پر آمادگی سے مشروط کیاہے۔جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کمال مہارت سے کرگل لداخ اور خپلو ترتوک کا نام تک زبان پر لانے سے گریز کیا ۔ صحافی نے ان سے پوچھا کہ جس طرح پاکستان نے کرتار پور راہداری کھولنے کی تجویز دی تھی اسی طرح کرگل سکردو اور خپلو ترک روڈ کھولنے کے لئے ماضی میں کوئی تجویز دی ہے یا مستقبل میں وازرت خارجہ اس روڈ کو کھولنے کے لئے کوئی تجویز دینے کاارادہ رکھتی ہے؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کرتار پور راہدی کے کھولنے کی ابتدا پاکستان نے کی تھی اس کے بعد بھارت نے ہماری(پاکستان) پیروی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم توجموں و کشمیر ،پانی ،سرکریک اور سیاچن سمیت تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اور راہدیاں کھولنی اور ،تعلقات بہتر ہونے چاہیںتاہم بھارت بات ہی کرنے کے لئے تیار نہیں ے ۔ لوگوں کی خواہشات ہو سکتی ہیں اس کی عزت کی جاتی ہیں مگر حقائق آپ کے سامنے ہیں اسے صرف نظر (نظر انداز ) خدا کے لئے نہ کریں ۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ سال 14ستمبر کو (بھارتی وزیراعظم ) کو مذکرات کی دعوت دینے کے لئے چھٹی لکھی جس میں ان تمام مسائل پر مذکرات کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس تجویز کو بھارت نے 20ستمبر کو قبول کیا اور 21ستمبر کو پیچھے ہٹ گیا۔ اس لئے پاکستان ہوا میں راہدایاں نہیں کھول سکتے ۔کچھ تو کرنا پڑے گا ہمارئے مسائل سننے پڑیں گے ہماری بات سننی پڑی گی ۔ انہوں(بھارت ) نے پانچ اگست کو بس سروس تجارت بند کر دی ہے ان تمام صورتحال کے باوجود پاکستان اپنی پالیسیوں کو مسلسل اپنی نظریے کے مطابق چلا رہا ہے ۔صحافی نے ان سے یہ کہنے کوشش ہے کہ سوال صرف بٹے ہوئے خاندانوں کے ملانے کے لئے کرگل سکردو اورترتوک خپلو روڈ کھولنے کے لئے تجویز دینے سے متعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ کاجو بھی سوا ل ہو جواب میں (ترجمان ) نے ہی دینا ہے۔یاد رہے کہ منقسم خاندانوں نے کو ملانے پاکستان اور بھارت دونوں میں احتجاج ہوتے رہتے ہیں رواں سال فرووری میں بھارت کے زیر انتظام کشمیرکے علاقے کرگل میں مظاہرے ہوئے تھے ۔ امریکہ کے سرکاری خبررساں ادارے وائس آف امریکہ کے مطابق اس مظاہرے کی قیادت کرنے والی تنظیم کے صدر شیخ ناصر مہدی محمدی نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان اس راہدی کو کھولنے کا خواہش مند ہے مگر بھارت بات کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہے۔ کراچی میںمقیم گلگت بلتستان کے علاقے ضلع استور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عبدالجبار ناصر دو سال پہلے اپنے ایک مضموں میں استور اور سرینگر کے راستے بھی کھولنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ مورخیں کے مطابق یہ تمام راستے تقسم ہند سے پہلے مقامی لوگوں کی گزرگاہ اور اہم تجارتی شاہراہ تھی۔بھارتی حکومت کی جاری کردہ نئے نقشے کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداوں کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر نگرانی میں استواب رائے ہونے کشمیر کے تمام علاقے متنازعہ ہیں اس لئے ان کے علاقوں کاکوئی بھی نقشہ پاکستان کو قابل قبول نہیں ہے۔دوسری طرف جموں و کشمیر اوربھارت کی صحافی بھارتی اخبار نیشنل ہیرالٹ کی تقریبا دوسال پرانی رپورٹ کو ٹویٹر پر شیئر کر رہے ہیںجس میں اقوام متحدہ کی شعبہ اکنامک اینڈ سوشل افیرنے مبینہ طور پر جموں و کشمیر کو الگ ریاست کے طور پر دکھایا ہے۔
دفترخارجہ کا سکردو کرگل روڈ کی بحالی کیلئے ہندوستان کو تجویز دینے سے صاف انکار۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا