گلگت(ٹی این این) مشہ بروم بس حادثے میں دو درجن سے زائد افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے بعد گلگت بلتستان سے راولپنڈی کیلئے چلنے والے بسوں کی فٹنس پر عوامی حلقوں کی جانب سے سوال اُٹھا یا جارہا ہے۔ اس حوالے سے جہاں مشہ بروم کے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئے عوام کی جانب سے بہت ذیادہ مطالبہ کیا جارہا ہے وہیںمحکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی کارکردگی میں بھی سوال اُٹھا رہا ہے ۔ عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اہلکار رشوت کے عوض بغیر کسی چیکنگ کے زائد میعاد گاڑیوں کو فٹنس سرٹفکیٹ جاری کرتے ہیں۔
اس حوالےمحکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گلگت بلتستان کے اہم عہدے دار نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کے ٹیکنکل اسٹاف نے چند روز قبل جانچ پڑتال کے بعد نیٹکو سمیت نجی کمپنیوں کی متعدد بسوں کو ان فٹ قرار دیکر انکو اپنی تحویل میں لیا تھا مگر بعدازاں سیاسی مداخلت پر تمام بسوں کو ریلیز کردیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ اس وقت بھی ٹرانسپورٹ مافیہ نے محکمہ ایکسائز کے فرض شناس افسروں کیخلاف محاز کھول رکھا ہے لیکن کوئی تعاون کرنے والا نہیں کیونکہ ٹرانسپورٹ مافیا حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا