عوام کو تقسیم کرنے کی باتیں کرنے والے سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی پر خاموش کیوں؟۔ آغا علی رضوی کا بڑا سوال

0 0

سکردو(ٹی این این)گزشتہ روز سکردومیں مرکزی امامیہ جامع مسجد کے خطیب شیخ جواد حافظی کے بیان پر بلتستان بھر کے عوام میں شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔ کل شام سے ہی سوشل میڈیا پر خطیب کے متنازعہ بیان پر عوام کی جانب سے تندوتیز سوالات کی بوچھاڑ کی جارہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مرکزی مسجد میں مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نے کہا تھا کہ سکردو کے لوکل شہریوں کا اپنا سسٹم ہے اپ لوگ نان لوکل یعنی کھرمنگ، شگر اور خپلو والوں کو شادی میں مت بلائیں اُنہیں قبرستان میں جگہ مت دیں بلکہ صرف مجالس میں آنےکی اجازت دیں۔ اُن کے اس بیان پر عوام میں شدید تشویش پایا جاتا ہے اور بلتستان کے عوام اُن کے اس بیان کو تقسیم بلتستان بیرونی سازش حصہ قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے اس سے پہلے بھی سید باقر الحسینی صدر انجمن امامیہ نے بھی نان لوکل کو کھل کر تنقید کیا تھا اور اُنہیں بھی عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
شیخ جوادی کے اس بیان پر جہاں سوشل میڈیا پر اس وقت جنگ کا سماں ہے وہیں ممتاز عالم دین سیکرٹیری جنرل متحدہ مجلس وحدت المسلمین آغا سید علی رضوی نے بھی شدید غصے کا اظہار کیا ہے آج سکردو میں ایک مجلس سے خطاب کے دوران اُنہوں نے شیخ جوادی کے بیان کی مذمت کی اور اُنہوں نے سوال کیا کہ صرف سکردو میں لوکل اور نان لوکل کا مسلہ کیوں پیدا کیا جارہا ہے جبکہ ہم ایک ہی علاقے کے ہیں۔ اُنہوں نے سوال کیا کہیہی مسلہ پاکستان کے باقی صوبوں سےآئے ہوے لوگوں کے بارے میں کیوں نہیں کی جاتی جو یہاں پر زمین خرید سکتا ہے اور یہاں رہ سکتا ہے اور میرے کھرمنگ، شگر اور خپلو اور میرے روندو کے لوگ یہاں رہ نہیں سکتا یہ کیا ماجرا ہے۔ اُنہوں نے سوال کیا جو لوگ اس ایشو پر بلاوجہ تنقید کر رہا ہے وہگلگت بلتستان میں سٹیٹ سنجیکٹ رول کی بات کیوں نہیں کرتے جبکہ قانونی طور پر سٹیٹ سبجیکٹ گلگت بلتستان کے عوام کو قانونی حق ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website