گلگت(پ،ر)سپریم اپیلٹ کورٹ میں سینئر آفیسر کے ساتھ ایف سی اہلکاروں کی بدتمیزی اور انکو کورٹ میں داخلے سے روکے جانے کے اقدامات کی انکوائری کی جائے.ایک عرصے سے کورٹ کے لوکل ملازمین ایک فرد کے خلاف احتجاج میں ہونے کے باوجود بجائے انکے مطالبات کو سننے اور تسلیم کرنے کے انکو مختلف طریقوں سے دبانے اور با اثر وفاقی ملازمین کو ان پر مسلط کردیا جاتا ہے.سپریم اپیلٹ کورٹ میں ایک طرف سے ججز نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے تو وہی پر بشیر نامی ملازم پورے ادارے میں بے لگام ہوچکا ہے مذکورہ شخص کے خلاف بارہا عوامی سطح پر احتجاج کیا جاچکا ہے اس کے باوجود اس ایک ملازم کو تحفظ دینے کیلئے لوکل تمام ملازمین کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے.ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں کیا انہوں نےکہا کہ مذکورہ فرد کے خلاف عوام گلگت بلتستان اور سپریم اپیلٹ کورٹ کے لوکل ملازمین کے تحفظات سے بارہا مقتدر اداروں کو آگاہ کیا جاتا رہا ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب بھی گلگت بلتستان کے عوام.ملازمین یا سیاستدانوں کی جانب سے وفاقی ایک ادنا ملازم کے خلاف بھی کوئی آواز اٹھی ہے تو اس بندے کے دفاع میں تمام اداروں کو ایک پیج پر دیکھا ہے.عوامی ایکشن کمیٹی ان تمام حالات سے آگاہی رکھتے ہوئے بھی یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ لوکل نان لوکل کے تفرقے سے عوام کو دور رکھاجائے کیوں کہ گلگت بلتستان موجودہ حالات اس طرح کی سوچ کے متحمل نہیں ہوسکتے لہذا حکام بالا اس امر کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور بشیر جنجوعہ نامی شخص کو برطرف کریں اور کورٹ میں ججز کی کمی کو پوری کی جائے.
سپریم اپیلٹ کورٹ میں کشمیر کورٹ کے طرز پر ججز سے لیکر ملازمین تک لوکل افراد کی تعیناتی کا مطالبہ گلگت بلتستان کے عوام بنیادی حق ہے لیکن ملکی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اس پر احتجاجی تحریک چلانے سے احتراز کیا جاتا رہا ہے مگر اس بار مسئلے کا حل نہ نکلنے کی صورت میں عوامی ایکشن کمیٹی لوکل ملازمین کے حق میں نہ صرف کھڑی ہوگی بلکہ عوام کو بھی روڈوں پر نکالا جائے گا.
سپریم اپیلٹ کورٹ میں سینئر آفیسر کے ساتھ سیکورٹی اہلکاروں کی بدتمیزی عوامی ایکشن کمیٹی کا بڑا مطالبہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا