گلگت میں عوامی چوک کلثوم نوازشریف کی نام سے منسوب،وزیر اعلیٰ سخت تنقید کے زد میں۔

0 0

گلگت(ٹی این این) گزشتہ روز وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمنٰ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی برسی کے موقع پر گلگت جوٹیال عوامی چوک کا نام بیگم کلثوم نواز چوک رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اسکے علاوہ دیگر دو سڑکیں لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ شہید اور مرحوم پروفیسر محمد ظفر شاکر کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا۔
اُن کے اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیا محاذ کھڑا ہوگیا ہے لوگ وزیر اعلیٰ پر تندوتیز تنقید کرتے نظر آتا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر عوامی حلقوں نے اس اقدام کو شخصی امریت اور ذہنی غلامی کی ایک کیفیت قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کل سے جاری اس بحث میںسوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سوال کیا جارہا ہے کہ انقلاب گلگت کے کسی ہیروز کا نام آج تک کوئی سڑک،تعلیمی ادارہ یا پارک منسوب نہیں کیا لیکن وزیر اعلیٰ نواز شریف سے محبت میں گلگت کے چوک کا نام ایک ایسی خاتون کے نام سے منسوب کردی جنکی نہ ہی گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی خدمات ہیں اور نہ اُنہوں نے اپنی زندگی میں گلگت بلتستان کو دیکھا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا جارہا ہے کہ متنازعہ خطے کے حوالے سے کلثوم نواز مرحومہ کی خدمات بھی عوام کے سامنے رکھیں۔
جبکہ سوشل میڈیا پر وفاقی کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے 16 جولائی کو جاری ایک مراسلہ بھی وائرل ہورہا ہے جس میں وفاقی حکومت نےہر قسم کی عمارت پارک ،روڈ ، پل یا چوک جو عوام کے پیسے سے بنائے گئے ہوں، سواے قومی ہیرورز کے نام منسوب کرنے کے علاوہ دیگر کسی کے نام سے منسوب کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
اس حوالے سےپاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر محمد زمان لکھتے ہیں کہ پبلک چوک جوٹیال کا نام کلثوم نواز نہیں بلکہ دادی جواری چوک ہونا چاہئے۔
گلگت بلتستان کے نامور تاریخ دان اور سوشل ایٹکوسٹ شفقت علی انقلابی لکھتے ہیں،کہگلگت کے چوک چوراہوں کو سندھ اور پنجاب کے لوگوں کے نام سے منسوب کرنا اپنی تاریخ مسخ کرنا ہے۔ جوٹیال چوک کو شہید انقلاب رجب شہید کے نام سے منسوب کیا جائے۔ اس رجب علی شہید کی شہادت کے سبب گلگت بلتستان کو ووٹ کا اختیار ملا تھا جس کے سبب ہی جعلی ہی سہی مہدی شاہ اور حفیظ کو وزارت اعلی کا قلمدان ملا ہے۔
گلگت کے ایک صحافی شبیر میر لکھتے ہیں کہ پبلک چوک کو کلثوم نواز کے نام منسوب کرنے پر سوشل میڈیا میں بڑا شور مچ گیا ہے۔بحیثیت سیاست کے ایک طالب علم کے ہمیں اس فیصلے میں جو بات سمجھنے کی ہے وہ کلثوم نواز کو ان کی جمہوریت کے لئے خدمات/ قربانی کی وجہ سے ایک علامت کے طور پر لیا گیا ہے یقینا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا گلگت بلتستان سے کوئی تعلق ہے یا نہیں (اور یقینا وہ علاقائیت سے بالاتر تھیں)۔
قوم پرست رہنما اور کالم نگار یوسف علی ناشاد لکھتے ہیں کہ پبلک چوک کا نیا نام کلثوم نواز چوک رکھ دیا گیا۔ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام ۔وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔افسوس صد افسوس کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں کیا کوئی ایسا شخص نہیں گزرا کی اب ہمیں اپنے وطن سرزمین بے آئین میں جگوں کا نام بھی غیر مقامی لوگوں کے نام پر رکھنے کی نوبت آگئی ہے؟۔
گلگت بلتستان کے نامور کالم نویس وزیر نعمان علی لکھتے ہیں کہگلگت بلتستان میں چوک چوراہوں کے نام پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے نام پر رکھنے کی روایت قابل مذمت ہے۔ گلگت بلتستان کو لاہوری گیٹ،سکھر اور کے پیکے کا قصبہ نہ بنایا جائے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website