سکردو (پ ر)گلگت بلتستان ڈیموکریٹک رائیٹس کے زیر اہتمام ا منشیات کی روک تھام کے سلسلے میں ایک آگاہی سیمینار سکردو میں منعقد ہوا۔ سیمینار میںضلعی انتظامیہ کے اعلی عہدیداران، عالم دین، سیا سی رہنما، اور نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔سیمینار میں گلگت بلتستان ڈیموکریٹک رائیٹس کے چئیرمین احسان علی، ڈی آئی جی پولیس بلتستان رینج محمد ریاض نزیر گارا، چیف آرگنائزر اے پی ایم ایل گلگت بلتستان حاجی منظور یولتر، امام جمعہ والجماعت اہل حدیث مرکز مولانا عبدلقادر رحمانی، وائس چانسلر بلتستان یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نعیم خان ، ماہر تعلیم حسن حسرت، نورین جہان این سی اے گریجویٹ، سینئر رہنما پیپلز پارٹی نجف علی، چیف منسٹر نیشنل یوتھ اسمبلی منظور حسین، سکالر حاجی باقر ، سماجی کارکن علی شیر اور دیگراظہار خیال کرتے ہوئے کہا چئیرمین گلگت بلتستان ڈیموکریٹک رائٹس احسان علی نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے تمام مہمانوں اور والنٹیرز کا شکریہ ادا کیا جن کے بغیر اس سیمینا ر کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔انہوں نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک رائٹس کے قیام کا مقصد بتاتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا قیام پاکستان کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ، پاکستانی جھنڈے کے زیر سایہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کرنا ہے۔ انہوں نے مذید کہا منشیات ہمارے معاشرے کیلئے ناسور بن چکا ہے ۔ گلگت بلتستان میں نوجوانوں کو اس معاشرتی ناسور سے بچانے کیلئے مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں تقریبا 27 کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں ، پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد تقریبا 7 ملین کے قریب ہیں اور ہر سال تقریبا ڈھائی لاکھ ہلاکتوں کی وجہ بنتی ہے۔ اس معاشرتی ناسور کی وجہ سے ہمارے معاشرے کے یہ لوگ تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کے بجائے معا شرے پر بوجھ بن رہے ہیں۔ ہم سب کو اس معاشرتی برائی کے خاتمے کیلئے ملکر جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بحالی کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔
ڈی آئی جی پولیس بلتستان رینج محمد نزیر گارا نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک رائٹس کے چئیرمین احسان علی اور ٹیم کو اس کامیاب سیمینار کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی بھر پور کوشش ہے کہ معاشرے سے منشیات کا سرے سے خاتمہ ہو ۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے کیلئے ہم سب کو ملکر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس لعنت کے کاروبار سے جڑے لوگ اکشر مضبوط گواہ اور سپیشل پراسکیوشن ججز کے نہ ہونے کی وجہ سے عدالت سے بری ہوجاتے ہیں۔ ہم نے وفاق سے اسپیشل پراسیکوشن ججز کے قیام یا موجودہ ججز کو اضافی چارج دینے کیلئے درخواست کی ہوئی ہے انشااللہ امید ہے اس عمل سے معا شرے سے اس ناسور کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
چیف آرگنائزر آل پاکستان مسلم لیگ حاجی منظور نے کہا کہ منشیات فروشوں کا قلع قمع کرنے کیلئے کلیدی کردار محکمہ پولیس کا ہے ، معا شرے میں منشیات کا ناسور نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے جسکو کنٹرول کرنا موجودہ حالات میں بہت مشکل تاہم اگر ہم پولیس کے ساتھ بھر پور تعاون کرے اور منشیات کے خلاف شانہ بشانہ پولیس کے ساتھ قدم ملا کر چلے تو معاشرے سے منشیات کے ناسور کا خاتمہ فوری ممکن ہیں۔
امام جمعہ والجماعت اہل حدیث مرکز سکردو مولانا عبدلقادر رحمانی نے پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ لوگوں کے اس کاوش کی داد دیتا ہوں۔ جو کام ہم علماوں کو ممبروں سے کرنا چاہئے تھا وہ آپ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ اور بھی علماء کرام مدعو تھے لیکن انکی یہاں غیر حاضری دیکھ کر مجھے افسوس ہو رہا ہے ۔انہوں نے مذید کہا کہ اسلام میں ہر طرح کا نشہ حرام قرار دیا گیا ہے اور اس سے با ز رہنے کی تلقین کی ہے ۔
وائس چانسلر بلتستان یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نعیم خان نے جی بی ڈیموکریٹک رائٹس کے چئیرمین احسان علی اور پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلتستان یونیورسٹی کا دروازہ آپ جیسے لوگوں کیلئے ہمیشہ کھلا ہے۔ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ بلتستان یونیورسٹی میں بھی اس طرح کے پروگرامز کا انعقاد کریں۔ انہوں نے مذید کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ ملنسار، مہمان نواز اور خوش اخلاق ہیں۔ بلتستان کے نواجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے تاہم انکو اگر صحیح گائیڈ لائن مل جائے تو یہ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں مذید بہتر کردار ادا کرسکتے ہیںانہوں نے مذید کہا کہ اس طرح کے پروگرام کے بار بار انعقاد سے لوگوں میں اس سماجی برائی کے استعمال سے ہونے والی تقصانات کے کے بارے میں آگاہی پیدا ہوگی۔
مصنف و ماہر تعلیم حسن حسرت نے معاشرے سے اس سماجی برائے کی خاتمے کیلئے بہترین کردار ادا کرنے پر پولیس کی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب ایک ہو کر اس معا شرتی برائی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرے تاکہ ہم گلگت بلتستان کو اس موذی برائی سے پاک کر سکے۔
نورین جہان این سی اے گریجویٹ نے پروگرام کے انعقاد پر پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ منشیات آج کی دنیا کیلئے ایک چیلینج بن چکا ہے۔ اگر نو جوانوں کے مستقبل کو بچانا ہے تو ہمیں اسکے روک تھام کیلئے ملکر کر دار ادا کرنا ہوگا۔
سینئر رہنما پیپلز پارٹی نجف علی نے کہا کہ منشیات کے روک تھام کی مکمل ذمہ داری کا الزام صرف پولیس پر ڈالنا جائز نہیں۔ ہم سب اس میں برابر کے شریک ہیں۔جس معا شرے میں ایک انسان منشیات کے جرم میں سزا پاکر جیل جا کے سزا کاٹنے کے بعد باہر نکلتا ہے تو لوگ ہار پہنا کر اس کا استقبال کرتے ہیں تو وہاں اس سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جا ساکتا ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ ہم سب کو ملکر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معا شرے سے اس ناسورکا خاتمہ ہوسکے۔
چیف منسٹر نیشنل یوتھ اسمبلی منظور حسین نے کہا کہ نوجوانوں کو اس لت سے دور رکھنے کیلئے مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ کسی بھی قوم کی مستقبل کا دار مدار نوجوانوں پر ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اس لت سے نکال کر قومی تعمیر و ترقی کی طراف گامزن کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے
معروف سکالر حاجی باقر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں نوجوان منشیات کا استعمال فیشن کے طور پر شروع کرتا ہے اور جب تک انہیں احساس ہوتا ہے اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ باپ بیٹے کو جو ابھی منشیات سے دور ہیں فخر سے کہتا ہے کہ دوکان سے سیگریٹ کی ڈبی لے آو۔ جب باپ خود اسکا شکار ہو تو بیٹا کیسے اس سے باز رہ سکے گا کیونکہ باپ ہمہشہ بیٹے کیلئے آئیڈیل ہوتا ہے۔
سماجی کارکن علی شیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں خود اس معا شرتی بیماری کا شکار رہ چکا ہوں۔ میں نے اسکی ابتداء دوستوں کے ساتھ فیشن کے طور پر کیا لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد احساس ہوا کہ اسکے استعمال کے بغیر اب رہنا ممکن نہیں۔ انہوں نے مذید کہا کہ میں نے ابتدا سگریٹ سے کیا پھر آہستہ آہستہ دوسرے بہت سارے نشے کا عادی ہوگیا۔ایک وقت ایسا آیا کہ میری دن رات نشے کی حالت میں گزرنے لگی ۔ اسکے بعد کچھ ایسے واقعات و حادسات میرے سامنے رونما ہوئے جس نے مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ پھر اللہ تعا لی کے کرم اور گھر والوں کی مدد سے میں نے اپنے آپ کو اس لعنت سے چھٹکارا دلایا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا