گلگت: (پ،ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کارگاہ، شیروٹ، سنگل، درمدر اور ہندارپ نالے میں پیرا ملٹری سیزنل چیک پوسٹیں پہلے سے تھی ان کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ پولیس چیک پوسٹیں گاؤں میں ہوتی ہیں جبکہ پولیس کو نالوں میں تعینات کرتے ہیں اور ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں ان نالہ جات میں یہ کوئی پہلا واقع نہیں ہے اس سے پہلے بھی کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ حکومت سنجیدگی سے اس اہم نوعیت کے معاملے پر لائحہ عمل طے کریں کے پی کے کی جتنے بھی حدود ہیں ان پر پیرا ملٹری چیک پوسٹیں قائم کریں تاکہ نالہ جات میں جانے والے لوگوں کی مال و جان کی تحفظ یقینی ہو سکے آج نالہ جات میں جانے والے لوگوں کا حکومت سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے ۔کبھی شہادتیں ہوتی ہیں کبھی مال مویشیوں کے ساتھ کوئی واقع پیش آتا ہے حکومت کا کام یہاں کے نالہ جاتے میں جانے والے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے آہستہ آہستہ لوگ نالے جات میں جانے سے گریز کر رہے ہیں اور مال مویشی نایاب ہو رہے ہیں جسے نہ صرف وہ لوگ جو مال مویشی کے ذریعے اپنے گھر کا چولہا جلا رہے تھے وہ محروم ہو رہے ہی۔ فورس کمانڈر گلگت بلتستان اس پر فوری طور پر سنجیدہ اقدامات اٹھایں آج نالہ جات میں جانے والے لوگوں کے ذہنوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے انہوں نے مزید کہا کہ الحمد اللہ اب گلگت شہر میں امن بحال ہوا ہے 2013 سے اب تک کوئی ایسا واقع رونما نہیں ہوا ہے لہذا گلگت شہر میں ہر ایک قدم پر ایک پیرا ملٹری چیک پوسٹ قائم کرنے کے بجائے ان نالہ جات میں چیک پوسٹوں کا قیام عمل میں لائیں تاکہ لوگ سکون کی چین کی نیند سو سکیں۔
گلگت بلتستان کے سرحدی حدود پرپیرا ملٹری چیک پوسٹیں قائم کیا جائے ۔ امجد ایڈوکیٹ
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا