پی ٹی آئی گلگت بلتستان ٹکروں میں تقسیم،باغی گروپ کا گورنر کے خلاف پریس کانفرنس۔

0 0

گلگت(ٹی این این) پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان شروع دن سے ہی دھڑے بندی کے شکار رہے ہیں لیکن راجہ جلال گورنر بننے کے بعد اور اُن کی طرف سے صرف منظور نظر افراد کو اپنے صفوں میں جگہ دینے اور اہم سرکاری عہدوں کیلئے رائل فاونڈیشن کے ممبران کی سفارش اور صدارت کیلئے الگ سے لابنگ جیسے مسلسل الزامات نے تحریک ا نصاف گلگت بلتستان کو مزید ٹکروں میں تقسیم کردیا۔ یہی وجہ سے کہ مسلسل سوشل میڈیا پر گورنر کے خلاف کمپئن چلانے کے بعد باغی گروپ کے رہنماوںابرار علی بگورو، محمد جاوید،،الیاس خان ،، فاروق احمد ،امتیاز گلگتی سمیت دیگر کئی افراد آج گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ جلال کو ہٹاکر اُن کے خلاف نیب انکوائری کا مطالبہ کردیا۔ باغی گروپ میں سوشل میڈیا پر پارٹی کیلئے متحرک کئی اہم شخصیات شامل ہیں جو شروع دن سے ہی تحریک انصاف کے کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں۔ باغی گروپ نے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور ان کا کہنا تھا کہ متنازعہ گورنر کو ہٹاوتحریک انصاف میں بے انصافیوںمیں گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون براہ راست ملوث ہیں ۔اُنہوں الزام لگایا ہے کہنیب کو بھی کمیشن مل رہا ہے نیب سنجیدہ ہے تو موجودہ حکومت کے چار سالہ ٹھیکوں کے بندر بانٹ کے حوالے سے جانچ پڑتال کرے تو معلوم ہوگا کہ ایک ہی ٹولے کو نوازا گیا ہے ان کو آج بھی حکومت اور گورنر کی سر پرستی مین نوازا جا رہا ہے اور یہی گورنر ہیں جو پی ٹی آئی کو تقسیم کررہے ہیں اس سے قبل بھی پی ٹی آئی کو تقسیم کیا ہے اور گورنر ہائوس جو کہ سٹیٹ کی ملکیت ہے وہاں پر سیاسی سرگرمیاں کر کے پی ٹی آئی کے مخصوص چار رکنی ٹولے کو نواز رہا ہے اور بیت المال کے گریڈ ون سے گریڈ 12تک اپنے خاندان کے 36افراد کو لگایا ہے۔ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے اسلام آباد میں اپنے گھر میں قومی خزانے سے 19 لاکھ روپے غیر قانونی طور پر فرنیچر کی خریداری پر خرچ کئے گئے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ گورنر نے اختیارات ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے ضلع شگر میں 20کروڑ کا ٹھیکہ دلایا گورنرکے پاس 14کروڑ تک صوبدیدی فنڈ ہے ا س کو کہاں خورد برد کردیا ہے اس حوالے سے نیب انکوائری کرے سب کچھے سامنے آئے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website