گلگت (نمائندہ خصوصی) عوام ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے بانی رہنماء احسان علی ایڈوکیٹ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ پچھلے 6 سالوں سے خیبرپختونخوا (KPK) میں عمران لیگ کی حکومت ھے اسی پارٹی کی حکومت کے دور میں گلگت بلتستان کی شناخت اسکی جغرافیائی حدود اور یہاں کے عوام کے بنیادی حقوق پہ چاروں اطراف سے مسلسل حملے ھو رہے ہیں۔ شندور، بصری اور بابوسر کے تین اطراف سے pkp میں تبدیلی سرکار کی توسیع پسند حکومت کئی کلومیٹر جی بی علاقے پہ زبردستی قبصہ کرکے جی بی اور پاکستان کے درمیان تاریخی بین الاقوامی حد بندی کے اندر گھس آئی ھے۔ جبکہ اسی تبدیلی سرکار کے دور حکومت میں چپرسن گوجال ہنزہ کے چین اور افغانستان کے سرحد پہ ایک وسیع علاقے پہ مقامی باشندوں کا داخلہ نامعلوم وجوہ کی بنا پر بند کردیا گیا ھے اس سے شدید تحفضات پیدا ھو رہے ہیں کہ سابق ڈکٹیٹر جنرل ایوب کی طرف سے 2000 مربع میل سے زیادہ علاقہ چین کے حوالہ کرنے کی طرح کہیں آج بھی گلگت بلتستان کا ایک اور بڑے علاقے کا درپردہ سودا تو نہیں ھو رہا ھے اب یہی تبدیلی سرکار غذر میں اپنے غنڈے بھیج کر اپنا سکہ جمانا چاہتی ھے۔مزید اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے احسان علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ سیاسی محاذ پہ بھی تبدیلی سرکار کا گلگت بلتستان کے حوالے سے پالیسیاں پچھلی حکومتوں کی طرح نوآبادیاتی رہے ہیں۔ جیسا کہ سپریم کورٹ کے 17 جنوری 2019 کے فیصلے کو ابتک نظر انداز کرکے فیصلے میں دی گئی ہدایت نمبر 1) سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں گلگت بلتستان میں آئینی و جمہوری اصلاحات نافذ کی جائیں اور گلگت بلتستان میں آزاد عدلیہ کو یقینی بنانے کیلئے اعلی عدلیہ میں ججوں کی تقرری ایک خودمختار جوڈیشیل کمیشن کے ذریعے کیا جائے مگر چھ ماہ گزر جانے کے باوجود تبدیلی سرکار سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پہ عمل درآمد سے انکاری ھے۔ نیز ججوں کی تقرری کیلئے جوڈیشیل کمیشن بنائے بغیر مطلوبہ اہلیت نہ رکھنے والے صوبہ خیبرپختونخوا کے ایک وکیل کو سپریم اپیلٹ کورٹ کا چیف جج مقرر کر دیا ھے جس کے خلاف گلگت بلتستان کے وکلاء تنظیموں نے اس تعیناتی کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کیا ھے اس لحاظ سے تبدیلی سرکار کی گلگت بلتستان کے حوالے سے پالیسیاں پچھلی حکومتوں سے بھی بدتر ھے۔
پی ٹی آئی کے دور حکومت میں گلگت بلتستان کی شناخت اور جغرافیائی حدود حملہ، ایڈوکیٹ احسان علی نے اہم انکشاف کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا