سکردو(پ،ر)پاکستان تحریک انصاف بلتستان کے سینیر ممبر اور سکالر سید محمد عباس کاظمی نے بلتستان یونیورسٹی کے بارے میں چند نا تجربہ کار افراد کی طرف سے کی جانے والی شور شرابا کے بارے میں بیان میں کہا ہے کہ بلتستان ڈویژن بڑی مشکلوں کے بعد اب ترقی کی ڈگر پر چل پڑا ہے لیکن چند افراد اپنے ذاتی مقاصدکے لئے اوریہاں کے دشمن خفیہ عناصر یہاں کی ترقیاتی منصبووں کو سبو تاژکرنے کے لئے حالات کو خراب کرنے میں لگ چکے ہیں ۔ جس میں سے ایک اہم ترین ترقیاتی منصوبہ بلتستان یونیورسٹی ہے ۔ اس یونیورسٹی کی منظوری اور تشکیل پر بلتستان والے حکومت پاکستان کا جتنا بھی شکریہ ادا کریں کم ہے۔چونکہ یہ بلتستان کی نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک اہم ترین ادارہ ہے لہذا ہر صاحب شعور شخص کو اس سے دلچسپی ہونی چاہیے ۔پچھلے چند ہفتوں سے اس یونیورسٹی اور اس کے لائق احترام وائس چانسلر کے خلاف جو کردار کشی کی جارہی ہے اور ان پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ انتہائی افسوسناک اور بلتستان کے نئی نسل کے مستقبل کو تباہ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے ۔ بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد نعیم صاحب جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے علاوہ چند دیگر یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تدریسی اور انتظامی عہدوں پر کام کیا ہے اور کسی بھی یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کے لئے جو بنیادی ضرورتیں ہیں ان سے کماحقہ تجبہ رکھتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ بلتستان یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کے لئے ابتدائی مرحلوں میں کیا اور کس طرح اقدامات لینا چاہیے اور یہ ان کی زندگی بھر کی تعلیمی سروس کا ٹیسٹ کیس بھی ہے۔ایسا شخص کس طرح ایک عام انتظامی ملازم کی طرح کرپشن کا سوچ سکتا ہے اور جس درخت کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے نصب کیا ہو اس کی جڑوں کو وہ خود کاٹ سکتا ہے۔ایک تعلیمی ادارہ کے سربراہ کے لئے اس کا ادارہ جس کی بنیاداس نے خود رکھی ہو وہ اس کے لئے سگی اولاد کی مانند ہوتا ہے ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان پر لگائے ہوے الزامات جن میں نوے فیصد یونیورسٹی کی اندرونی انتظامی پالیسی اور کاروائیوں سے متعلق ہے کس طرح ایسے افراد تک پہنچ گئے جن کا اس یونیورسٹی سے دورکا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ان تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد میں اور میرے کئی دوست جن سے یونیورسٹی کے موجودہ بحرانی حالت کے بارے میں بات چیت ہوی سب کو یہ یقین ہے کہ یہ سارا معاملہ یونیوورسٹی کے اندر سے ہی کوئی شخص چلارہاہے ‘ کسی ناتجربہ کار صحافی اور چند نوجوان کو فیڈ کرکے انہیں میڈیا میں اچھالا جارہا ہے ۔اور یوں یا تو وہ اندرونہ خانہ یونیورسٹی دشمن اہلکار اس یونیورسٹی کو اپنے اور اپنے پشت پناہوں کے قبضہ میں لینا چاہتا ہے یا وایس چانسلر کو بلیک میل کرکے اپنا کوئی کام نکالنا چاہتا ہے ۔ میڈیا میں آیا ہے کہ اس یونیورسٹی کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے کسی سابقہ عہدہ دار نے پارٹیٰ کے لیٹر پیڈ پر حکومت سے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم کو یہاں سے تبدیل کریں ۔ میں بحیثیت سینیر موسٹ ممبر تحریک انصاف وضاحت کرتا ہوں کہ اس وقت پورے ملک میں کسی بھی تحریکی ممبر کے پاس نہ تو کوئی عہدہ ہے اور نہ کسی کو کوئی خاص ذمہ داری دی ہوی ہے۔لہذا کسی ایک نے اگرتحریک انصاف کا نام اور لیٹر پیڈ استعمال کیا ہو وہ اس کی پارٹی ڈسپلن کے خلاف کام ہے جس کا پارٹی پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں۔۔اور اسے میں نے خود پارٹی کے سنیئر ترین ممبر کی حیثیت سے ان حرکتوں سے باز آنے کے لئے کہا ہے ۔کوئی نوجوان اگر صحافی بنتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ قومی اہم ترین اداروں کو بلیک میل کرنا شروع کرے اور باعزت لوگوں کی شلوار اتارنے کی کوشش کریں ۔یہ بذات خود اس کی صحافت سے بلیک لسٹ ہونے کے لئے کافی ہے۔اگر کسی کے پاس یونیورسٹی یا وایس چانسلر کے خلاف ثبوت ہیں تو آئیے میں خود اس کی مدد کرنے اور اس معاملہ کو اعلیٰ سطح تک اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ کیونکہ ہمیں یہ یونیورسٹی سب سے زیادہ عزیز ہے۔
بلتستان یونیورسٹی کے بارے میں میڈیا پر شور شرابا بلتستان کے خلاف سازش ہے۔ سید عباس کاظمی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا