سکردو(ٹی این این) سکردو بلتستان ڈویژن میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران دن بہ دن شدت اختیار کیا جارہا گلگت سکردو روڈ کی بندش کے ساتھ ہی پمپ مالکان اپنی اپنی پمپوں کو سیل کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کے ساتھ سیاحوں کو کافی مشکلات پیش آ رہی ہے تاہم اس کے مکمل حل کے لیے ضلعی انتظامیہ نے کوئی ٹھوس اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں حالیہ چند دنوں میں سوشل میڈیا میں پیپلزپارٹی ضلع سکردو کے جنرل سیکرٹری عبداللہ حیدری نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو نے تیل ڈپو بلتستان کے لیے 8سے 10 کنال پر پرانی چونگی کے قریب بنایا گیا تھا جہاں 6 ماہ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کو سٹاک کرنے کی گنجائش موجود ہے مذکورہ ڈپو کئ سالوں سے اب پاک آرمی کے پاس ہے اور وہاں کئی عمارت تعمیر کیا ہے ضلعی انتظامیہ فوری طور پر حل چاہتے ہیں تو پاک فوج کے ذمہ داران سے بات چیت کے ذریعہ معاملہ کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے ورنہ یہاں سیاحت کے شعبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اس وقت پورے بلتستان میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے پٹرولیم مصنوعات کی بار بار قلت سے سیاحتی شعبہ متاثر ہو رہا ہے
بلتستان میں پٹرولیم مصنوعات کی بحران کے پیچھے کیا راز ہے اور زمہ دار کون ہے ؟ تہلکہ خیز انکشاف ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا