گلگت( تحریر نیوز) موجودہ حکومت کی جناب سے گلگت بلتستان میں تعلیمی انقلاب کے دعوے اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سکول چاہے سرکاری ہو ہا نجی بیت الخلاء شائد ہی کسی اسکول میں دیکھنے کو ملے۔ البتہ شہروں علاقوں میں چونکہ مجبوری ہے اس وجہ سے بیت الخلاء بحالت مجبوری اسٹوڈنٹس کواستعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن بالائی علاقہ جات کے کسی بھی سرکاری اور نجی اسکولوں میں بیت الخلاء کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اس وجہ سے سرکاری اور نجی اسکولوں کے بچے قرب جوار میں موجود کھیتوں اور خالی جگہوں میں رفع حاجت کرتے ہیں جو کہ ماحولیاتی آلودگی کے علاوہ کئی بیماریوں کا سبب بھی بن رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پرایئوٹ اور سرکاری اسکولوں میں بیت الخلاء نہ ہونے کی وجہ سے کھیتوں میں گندگی کے سبب پانی دینے جانا بھی بعض اوقات مشکل لگتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو میں بیت الخلاء کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا