آغا راحت حسین الحسینی صاحب کا بیان ’’ علماء کا کام سیاست کرنا نہیں ‘ ‘ قوم کیلئے مشعل راہ ہے ۔ سید عباس کاظمی

0 0

سکردو(پ،ر)پاکستان تحریک انصاف کے سینیرممبراور بین القوامی شہرت یافتہ ادیب و مصنف سید محمد عباس کاظمی نے آغا سید راحت حسین الحسینی امام جمعہ مرکزی جامع مسجد گلگت کا نگر میں خطاب کے دوران یہ فرمانا کہ ’’ علماء کا کام یہ نہیں کہ وہ سیاست کریں‘ ان کا کام نوجوانوں کو دین سکھائیں ‘‘ اپنی معنویت ‘ وسعت اور گہرائی کے اعتبار سے ان کی زندگی بھر کی عملی ریاضت کا زر گل ہے ۔ آغا صاحب نے ایک ایسی حکیمانہ بات کہی ہے جو نہ صرف ملت امامیہ بلکہ ہر مسلمان کے لئے ایک نشان منزل ہے۔ہمیں یقین ہے کہ آغا صاحب نے یہ بات کسی اضطراری کیفیت یا کسی سے مقابلہ اور سیاسی وجہ سے نہیں کی بلکہ یہ ان کے میدان عمل میں طویل عرصہ کے مشاہدات اور تجربات کی بناء پر کہی ہے ۔اور ایک نہایت تلخ حقیقت کی پردہ کشائی ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی پارٹیوں ‘ قائدین اور کارکنان کا وجود ایک فطری بھی ہے اور معاشرے کے سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لئے ضروری بھی ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاست میں کام کرنے والوں کی نگاہیں نہ صرف ماضی میں دیکھنے بلکہ مستقبل مین بھی دور تک دیکھنے کے اہل ہوں ‘ معاشرے کی مزاج اور ضرورتوں کا مکمل ادراک رکھتے ہوں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ین و مذہب کی سیڑیوں سے چڑھ کر قوم کے اوپر سوار نہ ہوے ہوں ‘ سیاست خود ایک بہت وسیع اور عریض میدان ہے جس میں کام کرنے کئے اس میدان سے پوری طرح واقفیت اور انسان کی معاشرتی ‘ اقتصادی اور جمہوری ضرورتوں اور ان کے حصول کے لئے امن ا ٓشتی کے ساتھ انتھک کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔لیکن یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہمار ملک میں علماء کے نام پر وہ لوگ جنہوں نے چند سال فقہ اور فلسفہ تو پڑھے ہونگے لیکن سیاسیات ‘ اقتصادیات کا نہیں کچھ علم ہے اور نہ مقامی ‘ ملکی اور بین القوامی حالات کا کچھ پتہ نہ ہو اور ایک دم سے دین و مذہب کے نام پر امام خمینی بننے کی کوشش نے قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا یا ہے۔ایران و عراق میں چند سال رہ کر اور تھوڑا بہت پڑھ کر وہاں کے لباس کو پہن کر آنے سے کوئی شخص امام خمینی نہیں بن سکتا ‘ اس کے لئے پوری زندگی حصول علم ‘ تجربات و مشاہدات اور ایک سخت اور طویل عرصہ ریاضت و مشقت کی بھٹی میں پکنے والا ہی امام خمینی بن سکتا ہے ۔گلگت بلتستان میں علماووں کے سیاست میں کودآنے کی وجہ سے نہ صرف ہمارا معا شرہ دین و سیاست کے درمیان پس کر رہ گیا ‘ سیاسی طاقتیں کمزور پڑگئیں ‘ نوجوانوں کے اندر قوت تفکر اور فیصلہ کے علاوہ نہ ان کے اندر دین و مذہب کا ایک واضح نقشہ پیدا ہوسکا اور نہ سیاست میں اخلاقیات کی صلاحیت پیدا ہوی۔بلکہ ہمارے معاشرہ میں فرقہ بازی اور اس کے نتیجے میں بدترین قسم کی دہشت گردی کو فروغ ملا ‘ قوم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ گئی۔ان تمام افسوسنات حالات کے پیش نظر میں سمجھتا ہوں کہ آغا راحت الحسینی صاحب نے دیر سے ہی سہی لیکن اب ایک انتہائی دانشورانہ بات کی ہے اور ہمارے علماوں کے علاوہ ہماری نوجون نسل کو ان کے اس بات کو قبول کرنا چاہیے کہ وہ دین و مذہب اور اخلاقیات سکھانے کے میدان کو سنبھالیں اور باقی سیاسی اور جمہوری کام سیاسی قائدین اور نوجوانوں کو کرنے دیں پھر کہیں جاکر ہماری قوم ایک مثبت راہ پر گامزن ہوسکتی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website