گلگت (ٹی این این) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان کو انسداد دہشتگردی کی عدالت نے گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق اُن پر 2016 میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا.اپوزیشن لیڈر عدالتی حکم کے باوجود پیش نہیں ہورہے تھے.۔ آج جب وہ کیس کی پیروی کرنے انسداد دہشتگردی کی عدالت پہنچے تو اُنہیں عدالت کے احاطے سے گرفتار کرکے مناور جیل منتقل کردیا ہے۔یاد رہے گزشتہ سال سیلاب متاثرین کو ریلیف کے سامان تقسیم کےدوران اوشکھنداس میں اپوزیشن لیڈر شفیع خان اور مجسٹریٹ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اور شفیع خان پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تحصیلدار اور اس کے عملے پر تشدد کا الزام تھاجس کا مقدمہ انسدادہشتگردی کی عدالت میں زیر سماعت تھا ۔آج انسداد دہشتگردی عدالت گلگت نے اپوزیشن لیڈر کو جوڈیشل کرکے مناور جیل بجھوادیاہے۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے نئی بحث چھیڑ گئی ہے سوشل میڈیا فیس بُک ،ٹیوٹر اور واٹس ایپ صارفین کی جانب سے اس گرفتاری کے حوالے سے سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ اُنکی گرفتاری کیلئے کیا اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی سے پیشگی اجازت لے لی گئی تھی جو کہ قانون کے مطابق ہونا چاہئے تھا،سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے الزام لگایا جارہا ہے کہ اُن کی گرفتاری سیاسی ہے اور اُنکا گلگت بلتستان کے حوالے سے سخت موقف رکھنا اور اسمبلی میں سٹیٹ سبجیکٹ کیلئے بل لانے اور اقوام متحدہ کے قراردوں کے مطابق حقوق کا مسلسل مطالبے کا جرم بتایا جارہا ہے۔
۔

More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا