گلگت (خصوصی رپورٹ) گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک قرارداد کی متفقہ منظوری دی ہے جس میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ کسی متنازعہ شخصیت کو سپریم اپیلیٹ کورٹ کا چیف جج کی حیثیت سے تقرری نہ کی جائے اور کے پی کے سیکرٹری فاریسٹ کو فوراً تبدیل کیا جائے قرارداد میں کہاگیا ہے کہ گلگت بلتستان کا یہ معزز ایوان بذریعہ قرارداد ہذا صوبائی ووفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ضلع داریل کے عوامی ملکیتی جنگلات کے بابت دھوکہ دہی فراڈ سے یکطرفہ ڈگری ایبٹ آباد عدالت ہائی کورٹ بنچ سے حاصل کی گئی ہے جوکہ صریحاً خلاف قانون،رواج حقوق من جملہ مالکان کا ضلع داریل ہے نیز جی بی کی عدالتی Jurisdictionکی بھی خلاف ورزی ہے۔وفاقی حکومت وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک ایسے شخص کو سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کا چیف جج مقرر کرنے کی منظوری دی ہے جو مندرجہ بالا مقدمہ میں نہ صرف خود فریق بھی ہے بلکہ مجوزہ جج صاحب کے چچا زاد بھائی فاریسٹ سیکرٹری کے پی اس مقدمہ اورپالیسی لکڑی کی ترسیل میں براہ راست ملوث ہیں، علاوہ ازیں مدعی مقدمہ کی گلگت بلتستان کے چیف اپیلیٹ کورٹ میں چیف جج کے طورپر تعیناتی ایک سازش کا حصہ ہے ۔یہ مقتدر ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے متنازعہ شخص کو چیف جج سپریم اپیلیٹ کورٹ جی بی تعیناتی سے باز رہا جائے اور کے پی کے سیکرٹری فاریسٹ کوفی الفور ٹرانسفر کیا جائے تاکہ نقص امن کا خدشہ نہ ہو اور دیامر کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکے۔وزیرایکسائز حیدر خان اورجعفر اللہ خان کی یہ مشترکہ قرارداد پیر کے روز ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے ایوان میں پیش کیا تمام ممبران نے قرارداد کی حمایت کی جس پر سپیکر نے قرارداد کی متفقہ منظوری کا اعلان کیا۔
متنازعہ شخص سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جج نامنظور؛گلگت بلتستان قانون اسمبلی میں قرارداد منظور۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا