گلگت(پ،ر)مسلم لیگی وزیر نے پیسے لے کر نوکری دینے کا اسمبلی میں انکشاف کرکے حفیظ سرکار کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے۔ محکمہ سول سپلائی کرپشن کا گڑھ بن گیا ہے۔ تین سال سے ایک سکریٹری کو محکمہ کا سیاہ و سفید کا مالک بنا کر حفیظ سرکار آپنا حصہ اسی سکریٹری سے بٹور رہا ہے۔ سکریٹری سول سپلائی کو تین سال سے محکمہ خوراک میں رکھنا بدترین زیادتی ہے۔ محکمہ خوراک میں چھ ہزار بوریوں کی چوری کی شفاف تحقیقات کی جائے۔ اور سکریٹری خوراک کو معطل کیا جائے۔ حفیظ سرکار نے محکمہ خوراک کے سکریٹری کو آپنے کچن کا خرچہ چلانے کا ٹاسک دیا ہوا ہے۔ تمام محکموں کے سکریٹریز کا تبادلہ کیا گیا ہے مگر خوراک کے سکریٹری پر ہاتھ تک نہ لگانا لمحہ فکریہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی ضلع استور کے ڈپٹی سکریٹری اطلاعات وزیر نعمان نے آپنے اخباری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف کرپشن کے الزامات لگانے والے مسلم لیگی وزراء اب ایک دوسرے پر پیسے لے کر نوکریاں بانٹنے کا الزام اسمبلی کے اندر ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔ سول سپلائی کے محکمے کو حفیظ سرکار نے آپنے لئے پیسے بٹورنے کا سرٹیفائیڈ محکمہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ سول سپلائی کے سکریٹری کا تین سالوں سے ایک ہی محکمے کا قلمدان دے کر رکھنا آقرباء پروری اور کرپشن کی بدترین مثال ہے۔ چیف سکریٹری تین سالوں سے زیادہ محکمے میں رکھے جانے والے سکریٹری کا فی الفور تبادلہ کریں۔ محکمہ سول سپلائی میں چھ ہزار بوریوں کے غائب ہونے کی شفاف تحقیقات نیب ایمانداری سے کرے۔ سول سپلائی محکمے کو تباہی کے دہانے میں لاکر کچھ لوگ عوامی گندم کا منافعہ بخش کاروبار کررہے ہیں
اسمبلی میں پیسے لیکر نوکری دینے کے انکشاف سے ٹیم حفیظ کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ رہنما پیپلزپارٹی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا