شگر(عابدشگری)پاک ایران بارڈرتفتان مافیا کا راج گذشتہ 12 دنوں سے ہزاروں زائرین محصور۔ایف سی اور حکام کانوائے کانام پر زائرین کو تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ زائرین نے حکام کے روئے اور کانوائے کے عدم فراہمی کے خلاف احتجاج شروع کردی۔ زائرین نے پاک ایران شاہراہ پر دھرنا دیکر بلاک کردیا۔جس کی وجہ سے ایران کی جانب جانے والی اور واپس آنے والی سینکڑوں کنٹینر پھنس گئے۔زائرین نے تبگ آکر سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور حکام کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ جبکہ لبیک یاحسین سے فضا گونج اٹھا۔زائرین نے کوئٹہ کی جانب پیڈل مارچ بھی کیا تاہم کوئی بھی انہیں منانے نہ آئے اور نہ ہی کسی نے انہیں یقین دہانی کرائی۔ پاک ایران تفتان بارڈر پر ہزاروں زائرین 12 دنوں سے محصورہے۔جن میں خواتین،بچے اور بزرگ شامل ہے.میڈیا کو فون پر گفتگو کرتے ہوئے زائرین نے کہا ہے کہ اکثر زائرین کے پاس پیسے ختم ہوگئے۔جبکہ بیشتر افراد سخت سردی سے بیمار ہونے لگے۔زائرین کا تعلق گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے ہیں۔12دنوں سے پھنسے گلگت بلتستان کے زائرین کا آرمی چیف اور کمانڈر ایف سی این اے سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا