گلگت (ٹی این این) گزشتہ روز سیکٹر کمانڈر اسپیشل کمونیکشین آرگنائزیشن کی جانب گلگت کے مضافاتی علاقہ اوشکھنداس گورنمنٹ بوائز ہائی سکول میں پودے لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کر دیا ۔ اس موقع پر ایس سی آو کی جانب سے سکول کے پرنسپل کو شلیڈ بھی پیش کیا گیا۔ یہ اخبار میں چھپتے ہی عوام نے سوشل میڈیا پر ادارے کو اپنی اصل ذمہ داریاں یاد دلانا شروع کردیا۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب فیس بُک اور ٹیوٹر سے اس حوالے سےتندو تیز مذاق کا سلسلہ ہوگیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایس سی او نہ ہی دیگر پرائیوٹ موبائل کمپینوں کو گلگت بلتستان میں فور جی سروس شروع کرنے کی اجازت دیتا ہے اور نہ خود عوام کو انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے ایسے میں درخت لگانے کے علاوہ اُنکا کام ہی کیا رہ گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے ایس سی او عوام کو بیوقف بنانے کیلئے اکثر علاقوں میں لکڑی کے پول پر بوسٹر لگا کر مہنگے داموں سم فروخت ہو کر غائب جاتے ہیں جہاں ڈی ایس ایل کی سروس ہے اُن مقامات پر سروس بند ہونے کے باوجود عوام سے ماہانہ فیس وصولی نہ بھرنے کی صورت میں اضافی چارجز عوام پر لاگو کرنا ،بغیر کسی نوٹس کے پیسے کٹ جانا اور بغیر استعمال کےانٹرنیٹ ایم بی ختم ہوجانا معمول بن چُکی ہے۔
سوشل میڈیا کے کئی واٹس ایپ گروپس،فیس بُک اور ٹیوٹر گروپس میں اس حوالے سے عوام کی جانب سے شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اگر یہ ادارہ گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ اور موبائل کی فراہمی کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو نجی کمپینوں کو سروس فراہم کرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہئے۔
عوامی حلقوں نے فورس کمانڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کی فروغ کیلئے بہت سے علاقوں تک ملکی اور غیر مُلکی سیاحوں کو رسائی دینے کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل فون کی موجودگی اولین ضرورت ہے اس حوالے سے کردار ادا کریں تاکہ گلگت بلتستان کی خوبصورت وادیوں کا نظارہ دنیا تک براہ راست پونچ سکے اور عوام بھی دور جدید کے اس سہولت سے مستفید ہوسکے۔
ایس سی او کی ناقص سروس سے تنگ عوام سوشل میڈیا پر متحرک، فورس کمانڈر سے بڑا مطالبہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا