گانچھے( تحریر نیوز) گرلز ہائی سکول کورو گانچھے میں اسٹودنٹس آج بھی بنیادی تعلیمی ضروریات سے محروم ہیں ،بیٹھنے کیلئے کرسی نہ ہونے کے سبب مٹی پر بٹھا کر تعلیم دیا جارہا ہے، صرف نہ نہیں بلکہ اساتذہ کے کمی کے سبب طالبات کو بوائز ہائی سکول میں جانے پر مجبور کیا جارہا ہے لیکن مخلوط نظام تعلیم کی ناپسنددگی کی وجہ سے ستر فیصد طالبات تعلیم کر خیر باد کہنے پر مجبور ہیں۔ اسکول میں دو لیب اسسٹنت کو کو ملا کر اس وقت صرف 6اساتذہ فرائض انجام دینے کی کوششوں میں مگن ہیں لیکن ایک ہائی اسکول میں اس قدر کم تعدا د میں اساتذہ کا ہونا بھی سوالیہ نشان اور محکمہ تعلیم کی لاپروائی کو ثابت کرتی ہے۔
اہلیا ن علاقہ نے وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ سیر سپاٹے اور اخباری بیانات کی دنیا سے نکل کر کبھی اپنے حلقے کے مسائل کی طرف یوجہ دینے کی کوشش کریں ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا