چلاس(محمدقاسم)ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتالچلاس میں سکیل ایک تا بارہ کے مختلف آسامیوں میں غیر قانونی اور چور دروازے سے بھرتیاں۔دو سال سے گھر بیٹھے تنخواہیں لینے کا انکشاف۔تفصیلات کے مطابق دیامر میں صحت کے بڑے مرکز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چلاس میں غیر قانونی بھرتیوں کی قلعی اس وقت کھل گئی جب پیرا میڈیکل سٹاف نے ہسپتال انتظامیہ سےنیو سٹیٹمنٹ ایٹم اور ماہنامہ ریٹرن سٹاف لسٹ کی فراہمی کا مطابعہ کیا تو ہسپتال انتظامیہ لسٹ کی فراہمی پہ کترا گئی۔واضع رہے کہ پیرامیڑکل سٹاف سروس سٹرکچر کے حوالے سے اپنے مطالبات کے حق میں روزانہ ایک ایک گھنٹہ او پی ڈی کا بائکاٹ کر رہے تھے گلگت میں ایڈیشنل سکریٹری صحت اعظم خان کے ساتھ گلگت بلتستان پیرامیڈکل سٹاف کا مذاکرات کے بعد احتجاج ایک ہفتے کے لئے موخر اس وجہ سے کی گئی کہ محکمہ صحت دیامر کے جانب سے جی بی ہیلتھ سکریٹریٹ کو فراہم کی جانے والی نیو سٹیٹ منٹ ایٹم میں کھلا تضاد پایا جاتا تھا۔اس بارے جب مزید معلومات حاصل کی گی تو سکیل ایک تا بارہ میں غیر قانونی اور چور دروازوں سے بھرتیاں عمل میں لائی گئی تھی جس کی وجہ سے ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس کی انتظامیہ نیو سٹیٹمنٹ ایٹم لسٹ کو راز میں رکھنا چاہتے تھے۔پرامیڈیکل سٹاف نے محکمہ صحت گلگت بلتستان سے مطابعہ کرتے ہوئے کہا ہے۔میڑٹ کا قتل عام کرکے چور دروازوں سے بھرتیاں کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے اور ہماری سنارٹی کو متاثر کر کے کسی اور کو نوازنے کی کوشش ذرا سی بھی برداشت میں کی جائے گئی۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال چلاس کے مختلف آسامیوں پر غیر قانونی اور چور دروازے سے بھرتیوں کا انکشاف۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا