وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس،سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد۔

0 0

‏اسلام آباد(ٹی این این) سپریم کورٹ کا گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کے حوالے سے فیصلے کے بعد کی صورت کے حوالے سے گلگت بلتستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کےوزیراعلیٰحافظ حفیظ الرحمن کی اپنی کابینہ کےہمراہ پریس کانفرنس کیا۔وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن نے کہا کہ سرتاج عزیزکمیٹی کی رپورٹ میں گلگت کوعبوری صوبہ بنانےکی تجویزپیش کی گئی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ کمیٹی نےگلگت کوصوبوں کےبرابرلانےکےلئےآرڈر2018کی شکل میں نظام فراہم کیا لیکن کچھ سیاسی نابالغوں نےآرڈر2018کومتنازع کردیا اورسیاسی مقدمےکوسیاسی جدوجہدکی بجائےعدالت سےحل کرانےکی کوشش کی گئی۔
وزیراعلیٰ‎ نے انکشاف کیا ہے اعلیٰ عدلیہ نےوفاقی حکومت کےمسودےپرفیصلہ صادرکیا اور اس فیصلےکےبعدگلگت بلتستان میں افراتفری اوربدامنی کااندیشہ پیداہوچکاہے۔ اُنکا کہنا تھاگلگت بلتستان ریفارمزآرڈر2019کسی صورت گلگت کےعوام کےلئےقابل قبول نہیں،وزیراعلیٰ‎ آٓرڈرکےتحت تمام اختیارات گلگت کےعوام سےچھین کروفاقی حکومت کودیےگئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ‎ سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان حکومت کی سفارشات کویکسرمستردکیاگیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website