اسلام آباد(ٹی این این) مشیر اطلاعات کے بیانات ہاتھی کے دانت ہیں عوام کے سامنے اور وفاق کے سامنے کچھ اور ہے عوام کو اندھیروں میں رکھ کر مزید فیصلے نہیں کیئے جائیں گے سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلے کے بعد جی حضوری کے تمام راستے بند ہونے چاہئے جو بھی حکومت گلگت بلتستان کو مزید آرڈرز کے ذریعے غلام بنانے کی کوشش کرے گی عوامی ایکشن کمیٹی انکا محاسبہ کرے گی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ گلگت بلتستان میں موجود وفاقی جماعتوں کی نااہلی اور بعض وکلاء کی نا سمجھی سے آیا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تماشائی بننے کی سوچ نے گلگت بلتستان اور پاکستان دونوں کو بند گلی لاکر رکھ دیا ہے ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی روز اول سے کہتی آئی ہے کہ غیر ممکن مطالبات کے ذریعے ریاست کو بلیک میل کرنے اور غیر سنجیدہ نعروں کے ذریعے سے گلگت بلتستان کی قوم کو مشکلات میں نہ ڈالا جائے مگر بدقسمتی سے ہمارے سیاسی رہنماؤں کی باہمی ہوس نے قومی شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے. آج بھی موقع ہے کہ گلگت بلتستان صوبائی حکومت اپنی ناکامی اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے قومی مفادات کی پاسداری کرے اور دیگر سیاسی وفاقی جماعتیں مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کردار ادا کرے کیوں کہ گلگت بلتستان میں آج بھی آزادی کی تحریک نہیں بلکہ حقوق کی بات کی جارہی ہے مزید تاخیر کی صورت میں ریاست کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس وقت گلگت بلتستان کی اہمیت اقتصادی راہداری دیامر ڈیم اور دیگر ملکی ترقی کے حامل منصوبہ جات کی وجہ سے دنیا کے نظروں میں ہے ایسے میں اس طرح کے حالات اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں کیلئے بڑے چیلنجز بن سکتے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ موصوف مشیر اطلاعات آج بھی گلگت بلتستان کے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے اپنی ناکامی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اس طرح کے اقدامات سے جان خلاصی نہیں ہونی ہے اب گلگت بلتستان کے نوجوان اور عوام باشعور ہوچکے ہیں پل پل کا حساب دینا ہوگا. انہوں نے مزید کہاکہ اس کیس کو عدالت لیجانے کی غلطی کا اندازہ بار کونسل کو قبل از وقت ہوچکا تھا کیس کو واپس نہ لینے اور کیس کو وہاب الخیری کیس سے آرڈر کے طرف پھیرنے کیلئے چند وکلاء کو گمراہ کرنے میں بھی صوبائی حکومت اور بعض سیاسی جماعتوں کا کردار رہا ہے لہذا اب اس صورت حال سے عوام کو نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ صوبائی حکومت سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متنازعہ حقوق پر مبنی بل تیار کرکے اسمبلی سے پاس کرائے اور اس پر عملدرآمد کرانے کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی مکمل تعاون کرے گی بصورت دیگر موجودہ نوجوانوں میں ابھرتے جذبات اور اشتعال کے ذمداری میں صوبائی حکومت اور لوکل سیاسی جماعتیں برابر کے شریک ہونگے.
سپریم کورٹ پاکستان کے واضح فیصلے کے بعد جی حضوری کے تمام راستے بند ہونے چاہئے۔ مولانا سلطان رئیس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا