اسلام آباد(ٹی این این)مورخہ 17 جنوری کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کے حوالے سے تاریخی فیصلہ دیکر اس خطے کو عبوری طور پر پاکستان میں شامل کرنے کے بجائے یواین سی آئی کے قراداوں کی روشنی میں متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے حکم کے بعد احتجاج اور مطالبات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ کے لارجر بنج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، ان علاقوں کی آئینی حیثیت استصواب رائے سے طے کی جائےلیکن اقوام متحدہ کے قراداد کے مطابق بھارت اورپاکستان اپنے زیرانتظام علاقوں کوزیادہ سے زیادہ حقوق دینے کے پابند ہیں۔ اس تاریخی فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے عوام پچھلے اکہتر سالوں سے پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بننے کے خواہش مند تھے لیکن گلگت بلتستان کے قوم پرستوں کی جانب سے ہمیشہ سے یہی کہتا رہا ہے کہ مسلہ کشمیر کیلئے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اقوام کے قراداد UNCIP کے ہوتے ہوئے اقوام متحدہ کی موجودگی میں رائے شماری سے پہلے ایسا ممکن نہیں۔یوں سوشل میڈیا پر قوم پرست طبقے کی جانب سے ایک طرح اُن کے نظرئے کی تاریخی فتح قرار دیا جارہا ہے ۔ دوسری طرف گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کے علاوہ دیگر تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کی جانب سے ایک متفقہ مطالبہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق گلگت بلتستان کو 13 اگست 1948 کے متفقہ قراداد کے مطابق حقوق اور اس خطے میں دیگر دو اکائیوں کی طرح قانون باشندہ ریاست جموں کشمیر سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے کل اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے اس مطالبے پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،جبکہ کراچی اور لاہور میں بھی گلگت بلتستان کے طلباء تنظیموں کی جانب سے متنازعہ بنیاد پر حقوق کی حصول کیلئے احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا۔
اس حوالے سے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں تحریک اسلامی میں رکن اور اپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان کی جانب سے سٹیٹ سجیکٹ کی خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے اسمبلی میں قراداد لانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، اس سے پہلے اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد بھی اس بات کا عندیہ دے چُکے ہیں کہ سٹیٹ سبجیکٹ اسمبلی سے پاس کیا جاسکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے اس اعلان پر سوشل میڈیا پرخوب چرچا ہے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس قراداد کو مسلم لیگ ن کیلئے کڑا امتحان قرار دیا جارہا ہے۔عوامی حلقوں کا سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے صارفین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ یہ قراداد عوامی نمائندوں کا اپنے خطے کے حوالے سے وفا دریاںناپنے کا ترازو ثابت ہوگا کیونکہ اس بل کو پاس کرنے میں وفاقی سطح پر یا عدالتی حوالے سے کوئی بھی قانون رکاوٹ نہیں جبکہ 1956 میں صدر اسکندر مرزا کے دور میں چند مقامی افراد کی مرضی سے اس قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں سٹیٹ سبجیکٹ کیلئے قراداد لانے کا فیصلہ،حکومت کیلئے کڑا امتحان۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا