گلگت ( نامہ نگار) گلگت بلتستان سروس ٹربیونل کا قیام سال دو ہزار چودہ میں لایاگیا تھا۔ کئی ماہ پہلے چیئر مین اور ممبران اپنی مدت مکمل کرکے گھر وں کو چلے گئے لیکن یہ نشستیں تا حال خالی ہیں ۔یاد رہے کہ سرکاری اداروں کے ملازمین محکمانہ مسائل کے حل کیلئے سروس ٹربیونل سے رجوع کرتے ہیں جبکہ اس وقت سرکاری ملازمین کی جانب سے 300 سے زائد درخواستیں جمع کی جاچکی ہیں۔ ادارے میں خالی نشستوں پر تاحال نئے چیئرمین و ممبران کی تعیناتی نہ ہو نے سے مذکورہ درخواستیں التواء کا شکار ہیں ۔ چیئرمین و ممبران کی عدم تعیناتی اور متبادل فورم نہ ہونے کی وجہ سے ایک جانب سرکاری ملازمین میں سخت مایوسی پیدا ہوگئی ہے اور درخواستیں جمع کرانے والے ملازمین گزشتہ 6ماہ سے انصاف کی راہ تک رہے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب سروس ٹربیونل کے دفتر میں ویرانیاں چھاگئیں ہیں اور چیئر مین و ممبران کیلئے مختص لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی سرکاری گاڑیاں بھی دھوپ میں کھڑی سڑ رہی ہیں۔
گلگت بلتستان سروس ٹربیونل کے دفتر میں ویرانی چھاگئی،چیئر مین و ممبران کیلئے مختص لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی سرکاری گاڑیاں بھی دھوپ میں کھڑی سڑ رہی ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا