وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان کی تاریخ کے پہلے انجینئرنگ کالج کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

0 0

گلگت (ٹی این این)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے انجینئرنگ کالج کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی انجینئرنگ کالج کا قیام گلگت بلتستان کے عوام کیلئے سال نو کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ بہت جلد خواتین کیلئے الگ کیمپس کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ جب سے ہم نے اقتدار سنبھالی ہے تعلیم، صحت اور عوام کے دیگر بنیادی ضروریات ہماری ترجیحات کا حصہ رہی ہیں۔ گلگت بلتستان پہلے سے بہت زیادہ بدل چکا ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاحت، جنگلات، ہائیڈرو اور معدنیات میں مواقع ہیں لیکن بدقسمتی سے ان تمام شعبہ جات میں نئی چیزوں کی دریافت کے حوالے سے ہمارے پاس ماہرین موجود نہیں ہیں۔ ہمارے بچے دیگر صوبوں میں پروفیشنل تعلیم اور ہنر مندی کیلئے جاتے ہیں جبکہ صوبائی حکومت دیگر صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے انجینئرنگ اور میڈیکل میں سیٹوں کے اضافے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل اور عوام کا یہ سوال جائز تھا کہ ستر سالوں میں گلگت بلتستاان میں کوئی میڈیکل و انجینئرنگ کالج نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ سابق دور حکومت میں اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان میں تاریخ ساز منصوبوں کے قیام کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ وفاق سے ان منصوبوں کیلئے فنڈز بھی بروقت جاری کئے۔ بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نادان دوست اجتماعی نوعیت کے میگا منصوبوں پر بھی سیاست کرتے ہیں۔ کسی کو حفیظ الرحمن پسند نہیں ہے تو میرے حوالے سے وہ کسی بھی قسم کی رائے رکھنے کا حق رکھتا ہے لیکن قومی اجتماعی معاملات اور کسی ذات میں فرق ضرور کرنا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ سابق وفاقی حکومت نے ڈھائی ارب کا ایل پی جی ایئر مکس پلانٹ کا منصوبہ منظور کیا،ڈیڑھ ارب سے زائد کا نلتر ایکسپریس وے کی منظوری اور تمام ڈویژن میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام قابل قدر اقدام ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی کے 400ارب کے منصوبے ختم کئے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کے بھی بہت سارے منصوبے ڈیلیٹ ہوچکے ہیں انجینئرنگ کالج کا منصوبہ سابق وفاقی حکومت کے دور میں ٹینڈر ہوچکا تھا اس لئے بچ گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ گزشتہ سالوں سے گلگت بلتستان کی بنجر اراضی پر کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ہے ہم نے ان تمام زمینوں پر قانون سازی کررہے ہیں اس سلسلے میں لینڈ ریفامز کمیشن بنایا ہے اس کمیشن نے آدھا کام کیا ہے کچھ مہینوں میں کمیشن اپنا کام مکمل کرے گا جس سے ریاست کیلئے ضروری زمین کے علاوہ عوام کی اراضی کا قانون سازی کے ذریعے ان کو دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ ہمیں گلگت بلتستان میں ونٹر ٹوریزم کے رجحان کو موثر بنانے کی ضرورت ہے وہ اس وقت ممکن ہے جب ہم سیاحوں کیلئے بہتر سہولیات کی فراہمی سمیت بہتر سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنائیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے پاک فوج، انٹیلی جنس اداروں، انتظامہ اور عمائدین نومل کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ چھلمس داس میں انجینئرنگ کالج کیلئے اراضی کا تنازعہ افہام و تفہیم سے حل ہوا ہے جس پر تمام ادارے اور سٹیک ہولڈرز مبارک باد کے مستحق ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website