سکردو (ٹی این این خصوصی رپورٹ) گلگت بلتستان میں جعلی رنگ گورا کرنے والی کریموں کاسمیٹکس اور شیمپو کی بھرمار۔اس وقت مارکیٹ میں کئی سو میڈیکل سے منسلک ادویات، شیمپو اور کریموں سمیت میک اپ کا سامان فروخت ہو رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جعلی مشروبات اور کوکنگ آئل کے بعد اب جعلی کاسمیٹک ایٹمز اور شیمو صابن کو بھی پنجاب اور پختونخواہ میں ذیادہ چیکنگ کے باعث گلگت بلتستان پونچایا جارہا ہے جہاں غیر معیاری اشیاء کو معیاری اشیاء کے قیمت پر فروخت کی جاتی ہے۔
اس دھندے میں کئی مقامی کاروباری حضرات براہ راست ملوث ہیں جو ذیادہ کمانے کی چکر میں معلوم ہونے کے باوجود عوامی زندگیوں سےکھیل رہا ہے اور پورے گلگت بلتستان میں اس حوالے سے چیکنگ کا کوئی میکنزم ہی موجود نہیں جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کو جعلی اشیاء کے فروخت کی بڑی منڈی کی حیثیت حاصل ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی تقریباً تمام کریموں میں مرکزی پارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مسلسل استعمال سے کینسر کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اور جعلی صابن کے استعمال سے بال اور جسم کی مہلک بیماری لاحق ہوسکتا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا