استور(بیورورپورٹ) استور سپریم کونسل کے چیرمین ڈاکٹر غلام عباس، جنرل سیکریٹری طاہر ایوب،مرکزی رہنماء تعارف عباس، مولانہ اقبال اور عابد حسین نے استور کے جملہ ایشوز پر صحافیوں کوپریس بریفنگ کے دوران کہا کہ استور کے دونوں نا اہل ممبران اور سول حکومت استور کے بنیادی ایشوز حل کے کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں . پاک فوج سے اپیل کرتے ہیں استور کے بالائی علاقے میں ایندھن،اور بیماروں کے علاج معالجے میں اپنا کردار ادا کریں .اس کے علاوہ استور ویلی روڈ میں سپورٹنگ وال میں سیمنٹ کا بلکل بھی استعمال نہیں کیا جارہا اور میٹریل کا استعمال بھی ناکس ہے اس طرح سے کام جاری رکھا گیا تو ایک سال میں روڈ خستہ حالی کا شکل اختیار کریگا. وزیر اعلی نے راما کے مقام پر پیور مشین کے لئے دس کروڈ کا ہوائی اعلان کیا تھا آج تک نہ روڈ کو لیول کیا گیا اور نہ ہی روڈ کے معیار کو دیکھا گیا ستر کروڈ کے روڈ کو فیزز میں تقسیم کرنا استوری قوم ک ساتھ مزاق ہے. روڈ کی تعمیر کو نئے سیزن سے پہلے مکمل کیا جائے.بونجی آر سی سی پل کا ٹینڈر مشرف کے دور میں ہوا تھا ا تین گناء اضافہ کرنے کے باجود تیار نہیں کیا جاسکا نیب سے اپیل کرتے ہیں ذمہ داروں سے تحقیقات کریں. استور شونٹر ٹنل پاکستان اور گلگت بلتستان کو ملانے کا بہترین راستہ ہے این ایچ اے کی فزیبلٹی رپورٹ مکمل کرنے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ اور پاکستانی حکومت کے ذہنوں میں فتور کی وجہ سے ابھی تک کام شروع نہیں ہوسکا .اس میں تو بھارت سے اجازت کی ضرورت بھی نہیں پھر تاخیر کی کوئی وجہ نہیں. آزاد کشمیر گورنمنٹ ٹنل کے معاملے سنجیدہ ہے فلفور ٹنل میں کام شروع کیا جائے .اے پی ایس کالج پر وزیر اعلیٰ نے دونوں نا اہل ممبران اسمبلی کو ہدایت کی تھی کہ اے پی ایس کالج کے لئے جگے کا سیلکشن کریں مگر دونوں نااہل ممبران آپس کی نااتفاقیوں کی وجہ سے کوشش تک نہیں کرسکے. جغرافیہ اور اور آبادی کو مدو نظر رکھتے ہوئے ہم حکومت وقت سے ڈیمانڈ کرتے ہیں استور شونٹر کو اضافی ضلع اور دیامر کے برابر استور کودو مزید سیٹوں کا اضافہ کیا جاَٰئے.استور کے بالائی علاقوں میں لکڑی بارہ سے چودہ سو روپے فی من فروخت ہو رہی ہے حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ممبر اسمبلی فرمان نے وہا کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ ایک من لکڑی وہاں پانچ سو روپے کی پہنچادونگا .اس کے بعد اسکی شکل تک نظر نہیں آئی اور وہاں کے لوگ بیمار پرسی میں زندگی گزار رہے ہیں . ہم پاک فوج سے اپیل کرتے ہیں بالائی علاقے کے لوگوں کو جلد ایندھن اور دوائوں کا بندوبست کریں ورنہ جانوں کی ضیاء کا خطرہ ہے.استور میں گائنی ڈاکٹر, میڈیکل اور چائلڈ سپیشلسٹ کو فلفور تعینات کیا جائے ورنہ شدید احتجاج پر مجبور ہونگے.اس حوالے سے چیف سیکریٹری کا وعدہ تھا ایک ہفتے تک سپیشلسٹ پہنچ جائنگے مگر ابھی تک نہ پہنچ سکے.وائلڈ لائف کی بے حسی کی وجہ سے بوبن اور لوس میں برفانی چیتوں سے ضائع ہونے والے زو زمو وغیرہ کی نقصانات کا ازالہ بھی نہیں کیا جاسکا.بالائی علاقوں کا روڈ بند ہےنا اہل محکمہ پی ڈبلیو ڈی فیول کا رونا بند کریں روزانہ کی بنیاد پر کا م کرکے وہاں کا روڈ کھول دے ورنہ ہم پاک فوج سے اپیل کرتے ہیں کہ بالائی علاقوں کا روڈ کھولنے میں اپنا کردار ادا کریں.اگر ہمارے مطالبات حل نہ ہوئے تو روڈ میں نکل شدید احتجاج کرنے پے مجبور ہونگے.
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا