ضلع کھرمنگ انتظامیہ واٹر اسٹوریج کے نام پر کئی موضوعات کو تباہ کرنے کیلئے تیار۔

0 0

کھرمنگ(تحریر نیوز نیٹ ورک)نوازئدہ ضلع کھرمنگ اس وقت ایک طرح سرکاری افسران کیلئے تجربہ گاہ بنا ہوا ہے،ضلع بننے سے لیکر اب تک گزشتہ تین سالوں تین بار ڈپٹی کمشنر تبدیل ہو چُکے ہیں ۔ اس وجہ سے ضلع کھرمنگ کےمیں عوامی مسائل گھر کے دہلیز پر حل ہونے کے بجائے ایک طرح مذاق بنا ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اب تک ضلع کھرمنگ کے حوالے سے کوئی بڑا فیصلہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے ،ضلعی ہیڈکوارٹر بنانے کے حوالے سے عوام سے کئے گئے وعدے سے منحرف ہونے اور ضلع کھرمنگ میونسپل ایریا کی تعین کیلئے سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر پرپووزل تیار کرنے جیسے غیر منصافانہ فیصلوں سے عوام کے اندر شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔
اسی طرح ضلعی انتظامیہ نوزائدہ ضلع میں پارک اور سرکاری عمارات بنانے کیلئے عوامی املاک کو خالصہ سرکار کا نام دیکر ہتھانے کی کوششوں میں مگنہیں لیکن ضلع میں دیگر اضلاع کی طرف جدید آبادکاری کے حوالے سے کوئی بھی منصوبہ منظور کروانے میں مکمل طور پربُری طرح ناکام نظر آتا ہے۔ حال ہی میں ضلعی انتظامیہ نے شاہراہ کھرمنگ سے منٹھوکھا آبشار سے 10 کلومیٹر اوپر پانی جمع کرنے کیلئے ندی کو روکنے کے منصوبے کیلئے سروے کیا ہے ،یعنی ایک طرح سے منٹھوکھا نالے میں چھوٹا ڈیم بنایا جائے گا ۔لیکن اُنہوں نے اس حوالے سے مستقبل قریب اور بعید میں درپش مشکلات کا ذرا جانچ پڑتال نہیں کیا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ندی پر ویسے بھی ہرسال طغیانی طوفان کی وجہ سے ہزاروں کی تعدا د میں اہل علاقہ کے پھلدار اور غیر پھلدار درختوں سمیت کئی سو کنال زیر آب آجاتے ہیں لیکن حکومت نے آج تک عوام کے اس اہم مسلے کی طرف توجہ نہیں دیا۔ لیکن اب اگر منی ڈیم بنایا جاتا ہے تو موضع،گوریق،منٹھو،گیمل،ژھوق،منٹھوکھا مستقبل میں نہ صرف مکمل طور پر تباہ ہوسکتا ہے بلکہ ان تمام موضوعات کی وجود کو بھی شدید خطرات درپش رہے گا۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی میں ڈیم بنانے کی خواہش رکھتے ہیں تو سب سے پہلے ندی کی پانی کو تا لب دریائے سندھ ایک ڈائرکیشن دیں اور ڈیم بنانے کے مقام سے لیکر نیچے تک ندی کے اطراف میں ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت آرسی سی کے مضبوط اور بند لگا کر ہزاروں کنال عوامی اراضی ، لاکھوں کی تعداد میں درختوں اور محلہ جات کو محفوظ بنائیں، ورنہ اس طرح کے غیرسنجیدہ منصوبوں سے علاقے کی وجود کو خطرہ ہے ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website