پنجاب پولیس مقتول طالب علم کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام، گلگت بلتستان حکومت خاموش۔

0 0

اسلام آباد(ٹی این این) راولپنڈی نجی کالج ویژن ایجوکیشن سسٹم میں کمپیوٹرسائنس کا سکینڈ ایئرکا طالب گلگت بلتستان کے علاقہ استور سے تعلق رکھنے والا بیس سالہ نوجوان قتل کئے دو ہفتہ گرزنے کو ہے لیکن پنجاب پولیس قاتل کو گرفتار کرنے میں ناکام ہیں یا توجہ نہیں دی جارہی۔تفصیلات کے مطابق طالب علم کومورخہ 7 جنوری کو کچھ افرادمورگاہ راولپنڈی سے دھوکے سے ساتھ لے جانے کے بعد مبینہ طور پرفائر کرکے قتل کردیا۔مقتول کی نعش اغواء کے دو روز بعد گوجرخان سوہاوہ روڈ کے ویرانے سے برآمد ہوئی۔تھانہ گوجر خان پولیس نے اپنے نازک کندھوں سے تفتیش کا بوجھ اتارنے کے لئے واقعہ کو روڈ ایکسیڈنٹ کا رنگ دے دیا جبکہ مورگاہ پولیس نے وقوعہ تھانہ گوجر خان کی حدود کا قرار دے کر قانونی کارروائی سے ہاتھ اٹھا لیا۔واقعہ کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود تاحال اس کیس کی تفتیش شروع ہونی تو درکنارابھی تک دوتھانوں کے درمیان حدود کا تنازعہ ہی حل نہ ہوسکا ۔دوسری طرف مقتول کو ساتھ لے جانے والا مقتول کا قریبی دوست بھی وقوعہ کے روز سے غائب ہے۔طالب علم کی مسخ شدہ لاش دو دن بعد تھانہ گوجر خان کی حدود سے ملی اور نعش کی شناخت کے لئے مذکورہ کالج کے پرنسپل اور اعجاز کا قریبی عزیز گوجرخان گئے اور اعجاز کی نعش کی شناخت کرلی۔قابل ذکرامر یہ ہے کہ تھانہ گوجرخان پولیس نے اعجاز کی موت کو ٹریفک حادثہ قرار دے کر رپٹ لکھ رکھی تھی۔تاہم پوسٹ مارٹم اورکیمکلزایگزامنز کی حتمی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی لیکن اعجاز کے ورثاء نعش لے جاکرآبائی علاقہ میں تدفین کردی۔
تعجب اس بات پر ہے کہ حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے قتل کے اس لرزہ خیز واقعے کا ابھی تک نہ ہی نوٹس لیا اور نہ کسی آفیشل نے حکومت پنجاب یا پنجاب پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی بلکہ گلگت بلتستان کونسل کےممبر اورچیرمین سٹینڈنگ کمیٹی رہنما مسلم لیگ ن اشرف صدا نے اس حوالے سے احتجاج کرنے والوں پر بھی سنگین الزام لگاتے ہوئے اس ایشو کو معمولی قرار دیکر گلگت بلتستان میں حالات خراب کرنے اور نوجوان نسل کی ذہن خراب کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں کھلے عام دھمکی میں دے دی۔ اُن کے اُس دھمکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اور عوام کی جانب سے خوب تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سمیت اسمبلی کے تمام اراکین اس وقت سردیوں کی وجہ سے اسلام آباد میں مقیم ہیں لیکن اس لزرہ خیز قتل پر ایسالگتا ہے کہ وہ بلکل ہی بری الذمہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ قتل کے اس واقعے کی تفتیش اور قاتل کی گرفتار کیلئے کوشش کریں ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website