شگر(عابدشگری)شگر بھر میں جشن مے فنگ لوسرروایتی انداز اورجوش وجذبے کے ساتھ منایا گیا اس موقع پر مختلف قسم کے کھیل پیش کئے گئے جشن منگ کی مرکزی تقریب شاہی پولو گرانڈ شگر میں ہوئی جس کے مہمان خصوصی رکن گلگت بلتستان اسمبلی وزیر اخلاق ،ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین اور ضیاء اللہ ایس پی شگر تھے۔ جبکہ ہزاروں کی تعداد میں شائقین اس جشن سے لطف اندوز ہونے کیلئے موجود تھے۔جشن مے فنگ کا افتتاح رسہ کشی سے ہوا جس میں شگر کی ٹیم نے کلیمل الچوڑی کو دو صفر سے ہرا دیا اور اختتام فانوس ہوا میں چھوڑکر کیا گیا ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام مے فنگ کے موقع پر رسہ کشی کے مقابلے اس کے بعد مقامی کھیل کوپولو کلیمل ٹیم ہورچس اور وزیر پور کے ٹیم کے ساتھ کھیلا گیا اور کلیمل ٹیم وزیر پور کی ٹیم کو چار گول کرکے فاتح قرار پائے کو پولو کے مقابلے کے بعد شگر کے مختلف مقامات سے مشعل بردار شاہی پولو گرانڈ پہنچ گئے اس موقع پر درجنوں فانوس ہوا میں چھوڑا گیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شگر زاکر حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت مقامی ثقافت کو پروان چڑھانے میں سرگرم عمل ہیں کیونکہ ثقافت ہی لوگوں کی اصل پہچان ہوتی ہے اور ضلعی انتظامیہ شگر کی ثقافت کو پروان چڑھانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے انہوں نے کہا کہ اسی ثقافت کے ذریعے سے سیاحت کو فروغ دے سکتا ہے انہوں نے کہا کہ شگر کے عوام ثقافتوں کے امین ہیں اور جشن مے فنگ معدوم ہوگئی تھی جسے شگر کے عوام نے ایک بار پھر زندہ کیا جس کے بعد دیگر اضلاع میں بھی اس ایونٹ کو منا یا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جشن مے فنگ کی طرح ضلعی انتظامیہ حکومت کی تعاون سے دیگر ثقافت کو اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے انہوں نے کہا کہ شگر کے عوام میں ہر ایونٹ کامیاب کرنے کا صلاحیت موجود ہے اور حکومتی سطح پر ہو یا نجی سطح پر ہر پروگرام کامیاب ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ شگر کی اہمیت اور ثقافت دیگر اضلاع سے نرالی ہے اور یہاں کی ثقافت کو زندہ کرکے ہی علاقے کو ترقی راہ پر گامزن کرسکتا ہے اس موقع پر سکردو بار کے صدر بشارت غازی اور پریس کلب سکردو کے صدر قاسم بٹ بھی خطاب کیا اور اس دن کو سرکاری طور پر باقاعدگی سے منانے اور کلینڈر میں شامل کرنے کا مطالبہ کردیا ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا