شگر(عابدشگری)ممبر گلگت بلتستان کونسل وزیر اخلاق حسین نے کہا ہے کہ ہم محب وطن پاکستانی ہے ہمارے حب الوطنی پر شک نہ کیا جائے ۔پاکستان ہمیں اپنائے یا نہ اپنائے ہم اپنے آپ کو پاکستانی کہلائیں گے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت ایک ایک کرکے وعدوں کی تکمیل میں مصروف ہیں اورانشا اللہ ہماری حکومت کی میعاد مکمل ہونے تک ان تمام وعدوں کی تکمیل ہوگی جس کا وعدہ ہمارے قائد نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات سے قبل کئے تھے شاہی پولو گرانڈ میں منعقد ہ جشن مے فنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سب متحد ہوکر ہی اپنا حق حاصل کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیںملک کے ساتھ وفادار ہونے کے لئے کسی سے سر ٹیفیکیٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ تمام تر محرومیوں کے باوجود ہم نے بغاوت کا علم بلند نہیں ہے اور نہ ہماری نسلیں ایسا کرنے کو تیار ہوں گے انہوں نے کہا کہ ہمارا جینامرنا پاکستان سے ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا گلہ ریاست سے نہیں بلکہ ہمارا گلہ حکومتوں سے ہے لیکن ہم ناامید بھی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ گلگت سکردو روڈ پر کام جاری ہے اور پانچ پلوں کا افتتا ح بھی ہوچکے ہیں اور انشااللہ مقررہ مدت میں گلگت سکردو روڈ جسے شاہراہ بلتستان کا نام دیا گیا ہے مکمل ہوں گے انہوں نے کہا کہ گلگت سکردو رڈ کو شاہراہ بلتستان کا نام رکھنے پر ہم فورس کمانڈر احسان محمود کے شکر گزار ہیں ان کی گلگت بلتستان سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں ایف ڈبلیو او پر بھی فخر ہے جو دن رات ایک کرکے شاہرہ بلتستان کی تکمیل میں مصروف ہیں اور جس رفتار میں کام ہورہا ہے جس کے باعث مقررہ مدت میں روڈ کی تعمیر مکمل ہونے کی امید کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ شاہراہ بلتستان کی تعمیر کے بعد بلتستان میں معاشی انقلاب برپا ہوں گے اور گلگت سکردو کا فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے اب گلگت جاناکا مسئلہ بھی ختم ہوکر رہ جائے گا انہوں نے کہ مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت جس طرح عوام کی فلاح وبہبود اور صوبے کی تعمیر وترقی میں سرگرم عمل ہیں اسی طرح خطے کی ثقافت کی فروغ میںمصروف ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی بہتر پالیسیوں کی بدولت خطے میں امن لوٹ آئی ہے اور امن کی وجہ سے سیاحت کے شعبے کو فروغ ملا ہے انہوں نے کہا کہ ثقافت علاقے کی پہچان ہوتی ہے اور جشن مے فنگ بھی ہماری ثقافت ہے اور اسے گلی کوچوں تک لے کر جانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ کہ جشن مے فنگ کے موقع پر شگر کے عوام کے جوش ولولے نے بہت متاثر کیا انہوں نے کہا کہ شگر کے عوام پہاڑوں سے اتر کر اس ایونٹ کر کامیاب کراسکتا ہے تو دیگر علاقے کے عوام اس ایونٹ کو کامیاب کیوں نہیں کرایا جاسکتا انہوں نے کہا کہ دیگر علاقوں کے عوام کو بھی شگر کے عوام کی تقلید کرنی ہوگی تاکہ معدوم ہونے والی ہر ثقافت کو زندہ کرکے ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت پیش کرسکیں ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا