بینائی سے محروم بااثر قبضہ مافیا کے ظلم سے تنگ بلتستان کے کسان کا چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل۔

0 0

اسلام آباد(شبیرسہام)گلگت بلتستان کے بااثر قبضہ مافیا نے مبینہ طور پر بصارت سے محروم 70 سالہ بزرگ کی 23 کنال سے زائد اراضی پر قبضہ کرلیا۔متاثرہ شہری گزشتہ تیس سالوں سے انصاف کے لئے دربدر کی خاک چھاننے پر مجبور ہوگیا ہے۔متاثرہ شہری نے وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی آخری امید لئے اسلام آباد آنے کے بعد نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج شروع کردیا ہے۔متاثرہ شہری موسیٰ علی ولد غلام مہدی کا کہنا ہے کہ میرا تعلق سرموگائوں گانچھے گلگت بلتستان سے ہے۔دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوں اورانتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی کے دن پورے کررہا ہوں۔ آج سے تیس سال قبل یبگوخاندان کے راجہ تہوار علی خان مرحوم نے میری سرموگائوں میں والدین کی جدی پشتی اراضی پر قبضہ کیا جبکہ اب تہوارخان کے بیٹے علی خان وغیرہ کے ساتھ میرا تنازعہ چلا آرہا ہے۔میری اراضی خسرہ نمبر2700میں اٹھارہ کنال دومرلے جبکہ خسرہ نمبر1864میں پانچ کنال تیرہ مرلے ہے۔چودہ سال قبل 2004ء میں سول عدالت خپلو سے میرے حق میں فیصلہ ہوا۔جس کے خلاف میرے فریق سیشن کورٹ چلے گئے۔پھرمعاملہ چیف کورٹ سکردو میں آیا۔چیف کورٹ نے بھی میرے حق میں فیصلہ دیا۔لیکن بعدازاں مجھے میرے حق سے نہ صرف محروم رکھا گیا بلکہ آج تک میں انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہوں۔انہوں نے مزید بتایا کہ دوسال قبل علی خان نے میرا آبائی مکان اور باغیچہ لاکھوں روپے میں ماسٹرزکریا اورعبدالرحمان کے ہاتھوں فروخت کردیا۔جس کے بعد گلگت بلتستان میں انصاف کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں اورمیں نے فیصلہ کیا کہ وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی اپیل کرنے اسلام آباد کا رخ کروں۔انہوں نے بتایا کہ میں اپنے قریبی عزیزکے ہاں علی پوراسلام آباد میں ٹھہرا ہوا ہوں اور روزانہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاج کرتا ہوں۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان اورسپریم کورٹ آف پاکستان سے نوٹس لیتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website