گلگت (تحریر نیوز نیٹ ورک)گلگت بلتستان میں گزشتہ کئی سالوں سے بین المسالک ہم آہنگی کا ایک بہترین مثال نظر آرہا ہے لیکن گزشتہ دنوں تحریک انصاف گلگت بلتستان کے رہنماوں نے ایک بار پھر گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کی بنیاد پر سیاست کی بنیاد ڈالی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشہ ہفتے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پروفیسر اجمل حسین جنکا تعلق گلگت خومر سے ہے کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران فتح اللہ خان لابی نے شدت پسندی کی انتہاء کردی۔پروفیسر اجمل حسین نے پریس کانفرس شروع کرنے سے پہلے درود پڑھنا شروع کیا تو فتح اللہ خان کے منظور نظر افراد سیخ پایا ہوگئے اور پروفیسر اجمل حسین نے جیسے ہی دورد پڑھنا شروع کیا آئی ایس ایف گلگت بلتستان کے خودساختہ صدر رحمان درایلو نے اُنہیں یہ کہہ کر ٹوکا کہ یہ کوئی آپکا امام بارگاہ نہیں جہاں ہر کام دورد کے ساتھ شروع کرے اور پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا۔ ایسا کہنا تھا دونوں گروپ کے درمیان تصادم ہوتے ہوتے بچ گیا اور پروفیسر اجمل حسین کے ساتھیوں نے اُن کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
آئی ایس ایف کے صدر رحمان داریلو کا تعلق ضلع دیامر کے سب ڈویژن داریل سے ہے اور اُنکا پورا خاندان جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھتے ہیں ،جبکہ یہ خود ماضی میں کلعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے سرگرم کارکن رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان میں نفرتیں پھیلانے اور نئی نسل کا ذہن خراب کرنے میں اُنکا بھر کردار ہونے کی اطلاع ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ رحمان آج بھی سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز کے ذریعے نفرتیں پھیلاتے ہیں اور فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں اور باقاعدہ طور ہروقت مسلح رہتے ہیں۔ رحمان کے خلاف راولپنڈی ایف آئی آر بھی درج ہے اور وہ اس وقت پنڈی نہیں جاسکتے کیونکہ موصوف پنڈی پولیس کو مطلوب ہے۔ اُنہوں نے گزشتہ سال معمولی اختلاف پر پنڈی میں تھور سے تعلق رکھنے والے ایک لڑے پر گولی چلائی تھی جو غلطی سے بیچ بچاو کرنے والے تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سنئیر نائب شاہ ناصر کے چھوٹے بھائی صدام حسین کولگی اور وہاں سے بھاگ کر گلگت آگیا۔
اس وقت گلگت بلتستان میں آئی ایس ایف کاقانونی صدر استور سے تعلق رکھنے والے اویس محبوب ہیں ۔لیکن تحریک انصاف کے رہنما فتح اللہ نے لابنگ کرکے غیرقانونی طور اآئی ایس ایف مینگل گروپ سے جعلینوٹفکیشن کرایا اور آج فتح اس شخص کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے خوب استعمال کررہا ہے ۔ پروفیسر اجمل حسین اور فتح اللہ کے درمیان اندونی طور پر بہت ذیادہ تعلقات خراب ہیں کیونکہ اجمل حسین تعلیم یافتہ ہے اور گلگت حلقہ نمبر 2 میں سیاسی اثررسوخ رکھتا ہےجوکہ فتح اللہ کیلئے مستقبل میں مسائل بن سکتا ہے۔ فتح اللہ خان کا شمار اس وقت گورنر گلگت بلتستان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے لیکن ماضی میں فتح اللہ کا شمار گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے میں رہا ہے اور اُس گروپ پر نیشنل بنک کے ایک منیجر کو عالم برج کے قریب قتل کا الزام بھی ہے۔ فتح اللہ خان بھی ماضی میں کعلدم مذہبی شدت پسند جماعتوں کے حامی رہے ہیں جبکہ اُنکا پورا خاندان مسلم لیگ نون کے سپورٹر ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف گلگت بلتستان میں اس وقت میرٹ کے بجائے خوش آمدی کی بنیاد پر لوگوں کو پرکھا جارہا ہے اور کسی بھی لیڈر کو اپنے ساتھ ملانے سے پہلے اُنکا بیک گروانڈ چیک نہیں کرتے جوکہ آنے والوں سالوں میں پارٹی کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ گورنر گلگت بلتستان کا ایک بڑی پارٹی میں مذہبی شدت پسند عناصر کیلئے اسپیس فراہم کرنا سوالیہ نشان ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ گورنر کو بھی اس حوالے سے کچھ مسائل کاسامنا ہے اور اپنی مجبوریوں کے تحت خاموش ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید تنقید کیا جارہا ہے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک پارٹی ابھی حکومت میں بھی نہیں آئی ہے اور اُن کے لوگ دورد اور سلام کو بھی فرقہ واریت سمجھتے ہیں ایسے میں گلگت بلتستان تحریک انصاف کی قیادت کیلئے سوچنا ہوگا اور پارٹی میں موجود فتح اللہ خان لابی کو کنارے لگا کر معتدل اور تعلیم یافتہ غیرجانب دار اور تمام طبقہ فکر کیلئے قابل قبول شخصیات کو آگے لانے ہوگا۔ سوشل میڈیا پر گورنر گلگت بلتستان اس حوالے سے مکمل خاموشی پر بھی شدید تنقید کیا جارہا ہےلوگ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ ایسی کونسی مجبوری ہے کہ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلا ل ابھی تک خاموش ہیں کیونکہ اس قسم کے شددت پسند ذہن رکھنے والے لابی کو ابھی سے کنٹرول نہیں کیا تو مستقبل مزید مسائل پیدا ہوسکتا ہے۔
گلگت بلتستان تحریک انصاف کے رہنماوں نے فرقہ واریت کوہوا دینا شروع کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا