پاکستان نے کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کردیا،سکردو کرگل روڈ کی بحالی کا کوئی امکان نہیں۔

0 0

اسلام آباد (تحریر نیوز نیٹ ورک) پاکستان نے سکھ مذہب کے روحانی پیشوا بابا گرونانک کے 550ویں سالگرہ پر کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔شاہ محمود قریشی نے اپنے ٹیوٹر پیغام میں کہا کہ پاکستان نے ایک قدم اٹھاتے ہوئے کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم عمران خان 28 نومبر کو راہداری کھولنے کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اُنہوں نے مزید لکھاکہ پاکستان بھارت کو کرتار پور راہداری کھولنے سے متعلق پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے،۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ کرتار پور سرحد کھولنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، اس کی تجویز سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تجویز دی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کی بات کرتا ہے اور بھارت، افغانستان دونوں کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں، اسی امن کی خواہش کے پیش نظر پاکستان نے یہ تجویز دی تھی، کرتا پور راہداری کا سب سے زیادہ فائدہ سکھ برادری کو ہوگا۔
ادھر بھارتی کابینہ نے بھی سرحد کے نزدیک پاکستانی علاقے میں واقع گرودوارہ دربار صاحب تک سکھ یاتریوں کو رسائی دینے کے لیے خصوصی کوریڈور تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔بھارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بھارتی پنجاب کے ضلع گرداسپور میں ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان کی سرحد تک راستہ تعمیر کرے گی۔انہوں نے کہا کہ راستہ بنانے کا مقصد بھارتی سکھ یاتریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو گردوارہ دربار صاحب کرتار پور کی زیارت کے لیے جانا چاہتے ہیں۔ ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ بھارتی ریلوے اس سلسلے میں ایک ٹرین چلائے گی جو بابا گرونانک سے وابستہ مقامات سے گزرے گی۔
لیکن گلگت بلتستان کے ہزاروں منقسم خاندانوں کو ملانے کیلئے بھارت سکردو کرگل روڈ اور لائن آکنٹرول کے بند سڑکوں کو کھولنے کیلئے مسلسل عوامی مطالبات کے باوجود کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس حوالے سے ماضی کے حکومتوں کی جانب سے کئی بار وعدے بھی کئے گئے لیکن حکومت گلگت بلتستان کی عدم توجہ کی وجہ سے مہاجرین کرگل لداخ آج بھی سرحد کے دوسری طرف آج بھی اپنے عزیزوں سے ملنے کیلئے بے چین ہیں ۔ اس حوالے سے جون میں پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سکردو کرگل روڈ کی بحالی وعدہ بھی کیا تھا،جبکہ پچھلے سال وزیر اعلیٰ جموں کشمیرمحبوبہ مفتی نےہندوستان کے زیر انتظام کرگل کے دورے پر حکومت پاکستان اور ہندوستان سے بھرپور انداز مطالبہ کی تھ یکہ جس طرح پاکستان اور ہندوستان سے ریاست جموں کشمیر کے دیگرحصوں سے تجارت اور منقسم خاندانوں کیلئے لائن آف کنٹرول کھلی ہوئی ہے بلکل اس طرح گلگت بلتستان کے منقسم خاندانوں کو بھی ایک دوسرے سے ملنے دیا جائے۔گزشتہ ماہ صدر پاکستان کا دور گلگت بلتستان کے موقع پر بھی تحریک انصاف کے رہنماوں نے سکردو روڈ کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمنپہ لے ہی کہہ چُکے ہیں سکردو کرگل روڈ کھولنے کا وعدہ نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ اُن کے اختیار میںنہیں ہے۔
یاد رہے گلگت بلتستان میں سکردو ،کرگل، تورتک خپلو، استور گریز سڑک کی بحالی کیلئے گزشتہ دہائیوں سے عوامی مطالبہ ہے لیکن حکومت گلگت بلتستان نے کبھی بھی اس معاملے کو وفاقی سطح پر اُٹھانے کی کوشش نہیں کی یوں ایسا لگتا ہے کہ اس قسم کے اہم مسائل حکومت ترجیحات میں شامل نہیں۔تحریک انصاف کی حکومت کو چاہئے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی اس اہم مسلے کی طرف بھی توجہ دیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website