شگر (نامہ نگار) المصطفیٰ ایجوکیشنل سسٹم نے چھورکاہ شگر کے دو سکولوں کو لاوارث ،چھوڑ دیا ۔فیس روکنے کے باوجود ادارے کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہ آیا ،اساتذہ سے کئے گئے وعدے بھی وفا نہ ہوسکا ،تفصیلات کے مطابق المصطفیٰ ایجوکیشنل سسٹم کے تحت چھورکاہ میں ایک مڈل اور پرائمری سکول چل رہے اور دونوں سکولوں کے رزلٹ بھی بہترین آرہے ہیں اس کے باوجود سکولوں پر توجہ دینے والا کوئی نہیں چھورکاہ لب سڑک موجود مڈل سکول کی چار دیواری بھی نہیں ہے جس کے باعث خطرات ہمیشہ موجود ہے ساتھ ساتھ ڈائریکڑ نے اپنے دورہ بلتستان کے موقع پر مختلف سکولوں کا دورہ کیا تھا اور المصطفیٰ پبلک سکول چھورکاہ کا بھی دورہ کیا تھا جس پر اساتذہ نے تنخواہوں میں اضافی کی درخواست کی تھی جس پر ڈائریکٹر نے انہیں یقین دلایا تھا کہ سکول کے دیگر مسائل کے ساتھ اساتذہ کے تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا جائے گا تاہم ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ان یقین دہانیوں پر بھی عمل در آمد نہیں ہوسکا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ المصطفیٰ پبلک سکول چھورکاہ ماہانہ 50سے 60ہزار روپے ادارے میں جمع کررہا تھا تاہم ادارے کی جانب سے اساتذہ کے مسائل حل نہ کرنے اور سکول کے مسائل پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے تنگ آکر انہوں نے فیس بھی روک لیا ہے اس کے باوجود ادارے کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے اس حوالے سے اساتذہ کا کہنا ہے کہ اگر ادارے کی جانب سے یہ سلوک رہا تو ہم ان سے واسطہ ہی ختم کرکے ہم خود اس سکول کو چلائیں گے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا