اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک) گلگت بلتستان کے تمام سرکاری ملازمین جن کے بچے پاکستان کے مختلف شہروں تعلیم حاصل کرتے ہیں اُن کیلئے خصوصی سرکاری سہولیات کے ساتھ وہ تمام فیس جو وہ کالجوں اور یونیورسٹی میں ادا کرچُکے ہوتے ہیں،اُنہیں(Federal Benevolent Fund) کے ذریعے واپس مل جاتے ہیں جسے بعد میں قسط کی شکل میں اُن ملازمین کے تنخواہ سے کاٹ دئے جاتے ہیں۔یہ فنڈز چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان کے فنانس ڈویژن جاری کرتے ہیں لیکن گلگت بلتستان فنانس ڈویژن کی عدم توجہی کے سبب اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم طلباء شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔اسلام میں زیر تعلیم گلگت بلتستان کے مختلف طلباء کا ہمارے نمائندے سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم فیسوں کی وصولی کیلئے یہاں اسلام آباد(Federal Benevolent Fund)آفس کئی بار چکر لگا چُکے ہیں اُنکا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان فنانس ڈویژن کی جانب سے اپریل 2016 کے بعد سے لیکر آج تک اس مد میں کوئی ادائیگی نہیں ہوئی ہے جبکہ دیگر صوبوں سے ہرسال مقرر قوت کے مطابق فنڈز مل جاتے ہیں۔
طلباء کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے اس قسم کے اہم معاملے پر بلکل ہی لاعلمی سمجھ سے باہر ہے کیونکہ اس وقت بہت سے ایسے طلباء ہیں جنہوں نے فیسوں کی ادائیگی کرنا ہے اس وقت شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں لیکن گلگت بلتستان فنانس ڈویژن نے اس ہم معاملے کو دبا کر رکھا ہوا ہے جوگلگت بلتستان کے زیر تعلیم طالب علموں کے مستقبل خراب کرنے کے مترداف ہیں۔ اُنہوں نے گورنر گلگت بلتستان ،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ فنانس ڈویژن کی اس کوتاہی کا نوٹس لیں اور اس اہم مسلے کو حل کرکے طلبا ء کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے کردار ادار کریں
فنانس ڈویژن گلگت بلتستان کی کوتاہی سے مختلف شہروں میں زیر تعلیم طلباء شدید مالی مشکلات سے دوچار۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا