عوامی ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام آرڈر2018 کے خلاف گلگت بلتستان کے کئی اضلاع میں احتجاجی جلسہ۔

0 0

اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک) عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان اور انجمن تاجران گلگت بلتستان کے زیر اہتمام گلگت،سکردو،چلاس اور اسلام آباد میں اسلام آباد کی جانب سے مسلط کردہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے خلاف اور گلگت بلتستان میں مہنگائی اور دیگر مسائل کی حل کیلئے کامیاب احتجاجی مظاہروں کے انعقاد کیا ۔
عوامی احتجاجی جلسے سے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے مزکری عہدے داران اور چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس اور سربراہ مجلس وحدت المسلمیں گلگت بلتستان آغا علی رضوی سمیت انجمن تاجران کے عہدے داران نے خطاب کیا۔مقررین نے گلگت بلتستان پر مسلط گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو انسان حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے عدالت عالیہ گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ محرومیوں کو ختم کرنے کیلئے سپریم کورٹ 1999 کے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو مزید پیکج اور آرڈر پر نہیں چلایا جاسکتا اس خطے کی آئینی حیثیت کا تعین ہونا وقت کی ضرورت ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ سے ملک پاکستان کے لئے ہرقسم کی قربانیاں دی ہے دیامرڈیم کی تعمیر کے لئے اپنے تمام جمع پونجی کو ڈبونے کوتیار ہیں مگر حکمرانوں نے ڈیم کی ریالٹی کے بغیرڈیم تعمیر کرنے کی کوشش کی توسنگین نتائج مرتب ہوں گے

جبکہ اسلام آباد میں گلگت بلتستان اویرننس فورم کے زیراہتمام اسلام آباد پریس کلب کے باہراحتجاجی مظاہرہ کیا جس میں سنیٹر فرحت اللہ بابر نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اُنکا کہنا تھا کہ میں یہاں اس لئے آیا ہوں تاکہ گلگت بلتستان کے محروم طبقے کی آواز میں آواز ملا سکوں۔ اُنہوں نے گلگت بلتستان کی حقوق کیلئے یہاں کے سیاسی کارکنوں کی جدوجہد کو پاکستان میں تمام محروم طبقوں کے لئے ایک مشعل قرار دیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے لہذا یہاں کے عوام کو جو بھی قانونی حق ہے اُنہیں ملنا چاہئے
احتجاجی مظاہرے میں پہلی بار مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کے مختلف رہنماوں نے بھی شرکت کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website