سکردو(پ،ر)بلتستان کے ہونہار نوجوان سماجی کارکن انجینئر زاہد حسین (کوریا) کا ایک اور مثالی اقدام۔سکردو میں گورنمنٹ گرلز سکول میں پینے کے صاف پانی فراہم کرکے طالبات اور اساتذہ کی بڑی مشکل حل کردی۔ کیڈٹ کالج سکردو کے المنائی اور کورین ٹیلی ویژن پر پاکستان کی بہترین نمائندگی کرنے والے نوجوان انجینئر زاہد حسین نے اپنے آبائی شہر سکردو میں فلاحی خدمت سر انجام دے کر اس میدان میں بھی نوجوانوں کے لیئے ایک مثال بن گئے۔تفصیلات کے مطابق سکردو سندوس میں واقع عید گاہ گرلز مڈل سکول میں پینے کے صاف پانی کا شدید مسئلہ تھا جس کی وجہ سے 246 طالبات اور اساتذہ کرام کو کافی مشکلات کا سامنا تھا۔ ہیڈ مسٹرس میڈم طاہرہ بانو جو کہ زاہد حسین کی استانی رہ چکی ہیں انہوں نے جب کہا کہ ان کے سکول کے بچوں کو کافی مسئلہ ہے تو زاہد حسین نے ذاتی طور پر اور کوریا میں مقیم کچھ قریبی دوستوں کے تعاون سے سکول میں بورینگ سے پانی نکالنے کا پراجیکٹ بطور ڈونیشن دے کر ان معصوم بچیوں کے مسئلے کو حل کر کے ان کی پیاس ہمیشہ کے لیئے بجھا دی۔ پراجیکٹ کی کامیابی پر افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں دیگر مہمانوں کے ساتھ قائم مقام ڈائیریکٹر ایجوکیشن بلتستان جناب سید مہدی صاحب نے شرکت کی۔ انہوں نے زاہد حسین کا شکریہ ادا کر کے ان کو تمام نوجوانوں کے لیئے ایک مثال قائم کرنے پر مبارک باد بھی پیش کی۔اس موقع پر زاہد حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ نے توفیق دی تو آگے اس سے بھی بڑے لیول پر اپنی قوم کی خدمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لیئے انہوں نے سکول کے بچوں سے خصوصی دعا کی اپیل کی۔ زاہد حسین کا نوجوانوں اور بیرون ملک ہم وطن پاکستانیوں کے لیئے پیغام تھا کہ “پاکستان میں چونکہ سروسز اور ساری چیزیں سستی ہیں جس کی مرہون منت بہت سارے مسائل بآسانی حل کیئے جاسکتے ہیں۔ اگر وہ اکیلئے 300 لوگوں کو پینے کا پانی ہمیشہ کے لیئے میسر کر سکتے ہیں تو سوچیئے بے غرض ہو کر صرف اپنے ملک اور اپنے علاقے کی محبت میں اس طرح آگے بڑھ کر کوشش کریں تو ہم کیا کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لیئے سب سے اپیل ہے کی علاقے کے چھوٹے بڑے مسائل کو سمجھ کر انفرادی لیول یا اجتماعی لیول پر جو کچھ ہم سے ہو سکتا وہ کر گزرنے کے لیئے آگے بڑے”۔ ایسے تمام کام صدقہ جاریہ ہوتے ہیں اور اللہ ہمیشہ اس کا اجر عطا فرمائیں گے اور ہمارے توفیقات میں اضافہ بھی فرمائیں گے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا